سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 355
سيرة النبي علي 355 جلد 4 کو تیار کریں اور تراضی فریقین سے ایک تاریخ مقرر کر کے وہ بھی رسول کریم ﷺ کی عظمت پر مضامین لکھیں اور ایک مضمون رسول کریم ﷺ کی عظمت پر میں بھی لکھوں گا پھر دنیا خود بخود دیکھ لے گی کہ ان کے دس ہمیں لکھے ہوئے مضامین میرے ایک مضمون کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتے ہیں اور رسول کریم ﷺ کے فضائل اور آپ کے محاسن میں بیان کرتا ہوں یا وہ مولوی بیان کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے رسول کریم ﷺ کی عظمت پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ان کا بے شک رسول کریم ﷺ پر ایمان ہے مگر ان کا ایمان ایمان العجائز سے بڑھ کر نہیں۔یعنی انہوں نے اپنے باپ دادوں سے جیسا سنا ویسا مان لیا۔یا چونکہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ماننے لگ گئے ورنہ انہوں نے نہ کبھی قرآن پر غور کیا ہے اور نہ رسول کریم ﷺ کے کلام پر کبھی غور کیا ہے۔اگر ان لوگوں نے قرآن مجید کو غور سے پڑھا ہوتا تو حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق وَاصْطَفْكِ عَلَى نِسَاءِ العلمينَ اور اسی طرح بنی اسرائیل کے متعلق أَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِيْنَ کے الفاظ پڑھ کر کیوں اس حقیقت کو نہ پہنچ جاتے کہ جب کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ بعد از خدا اُس کا درجہ ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے زمانہ کے لوگوں پر صلى الله وہ فضیلت رکھتا ہے نہ یہ کہ وہ رسول کریم ہے سے بھی درجہ میں بڑا ہے۔اس کے مقابلہ میں ہم وہ ہیں جو رسول کریم ﷺ کے ایک ادنیٰ سے ادنی ارشاد پر اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور یا تو آج سے تیرہ سو سال پہلے صحابہ نے یہ کہا تھا کہ يَارَسُولَ الله! آپ ہمیں حکم دیجئے ہم سمندر میں اپنے گھوڑے ڈالنے کیلئے تیار ہیں 13 اور ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے 14 اور یا یہی فقرے آج ہمارے ہیں۔آج ہم ہی ہی ہیں جو رسول کریم علی ال اس لیے جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں گاڑ رہے ہیں، آج ہم ہی ہیں جو دین کی اشاعت کر