سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 354
سيرة النبي علي 354 جلد 4 نے بھی زور لگایا کہ وہ اپنے ارادہ سے باز رہے ، وزراء نے بھی کوشش کی کہ وہ اس اقدام کو ترک کر دے، پارلیمنٹ کے ممبروں نے بھی چاہا کہ وہ اپنے ارادہ کو عملی جامہ نہ پہنائے ، ملک نے بھی خواہش کی کہ وہ تاج و تخت کو نہ ٹھکرائے مگر اس نے صاف کہہ دیا کہ جو ملک یہ کہتا ہے کہ طلاق والی عورت الزام کے نیچے ہے اور اس سے دوبارہ شادی کرنا پسندیدہ نہیں میں اس کی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا۔میں بادشاہت چھوڑ نی آسان سمجھتا ہوں مگر اس خیال کو ترک کرنا میرے لئے مشکل ہے کہ مطلقہ عورت کسی الزام کے نیچے نہیں ہوتی اور اس سے شادی کی جاسکتی ہے۔صلى الله غرض قرآن کریم کے ایک ایک حرف اور ایک ایک حرکت اور ایک ایک نقطہ کے نیچے سے ہم نے معارف کے خزانے نکالے اور انہیں دنیا کے سامنے پیش کیا اور محمد ﷺ کی عزت عالم میں قائم کی۔یہاں تک کہ اسلام کا شدید سے شدید دشمن بھی آج یہ تسلیم کرنے لگ گیا ہے کہ روحانی میدان میں محمد ہے جیسا پہلوان اور کوئی نہیں ہوا۔پس وہ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کی حقیقی شان دنیا میں قائم کی ، وہ جنہوں نے اسلام کی کچی خدمت کی ، وہ جنہوں نے اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے دنیا کو دکھا دیا اور ثابت کر دیا کہ اسلام کی تمام تعلیمیں قابل عمل ہیں اور انہی پر عمل کرنے میں ہر برکت اور سعادت ہے ان کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے خلیفہ کو رسول کریم ﷺ سے بڑا سمجھتے ہیں اس سے زیادہ جھوٹ اور اس سے زیادہ غلط بات اور کیا ہو سکتی ہے۔میں ایسے اخبار نویسوں کو کہتا ہوں کہ مذہبی اختلاف کو جانے دو تم کم از کم انسانیت اور شرافت کا پاس رکھو اور اسے اپنے ہاتھ سے نہ دو۔ہمارے تمہارے اختلاف بھی ہیں ، لڑائیاں بھی ہیں ، جھگڑے بھی ہیں مگر ان لڑائیوں اور جھگڑوں میں جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ اور کسی کی طرف وہ عقائد منسوب کرنے سے کیا حاصل جن کو وہ مانتا ہی نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ سچے دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی ہم سے زیادہ عزت ہے تو میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اپنے علماء