سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 22

سيرة النبي علي 22 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی صداقت کا ایک واقعہ یکم مئی 1933 ء کو مبلغ انگلستان مولوی فرزند علی خان صاحب کی دعوت چائے کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے کفار سے جنگ کر رہا تھا۔صحابہ کہتے ہیں وہ اس قدر سرگرمی سے جنگ میں مصروف تھا کہ ہمیں رشک آتا تھا۔اتنے میں ایک صحابی نے دوسرے سے کہا دیکھو! یہ کیسا جنتی آدمی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی یہ آواز پہنچ گئی آپ نے فرمایا اگر کسی نے دنیا کے پردے پر دوزخی چلتا پھرتا دیکھنا ہوتو وہ اس لڑنے والے کو دیکھ لے۔چونکہ مسلمانوں کی ظاہری طور پر وہ بہت حمایت کر رہا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے صحابہؓ کے دلوں میں تزلزل پیدا ہوا اور انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام کے لئے اتنی قربانی کرے اور پھر بھی وہ درزخ میں جائے۔ایک صحابی کہتے ہیں جب لوگوں کے دلوں میں میں نے یہ وسوسہ پیدا ہوتے دیکھا تو میں نے کہا خدا کی قسم ! میں اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔وہ صحابی کہتے ہیں میں اس کے پیچھے پیچھے رہا یہاں تک کہ وہ اس جنگ میں شدید زخمی ہوا۔آخری وقت سمجھ کر لوگ اس کے پاس آتے اور کہتے تمہیں جنت کی بشارت ہو مگر وہ کہتا مجھے جنت کی کیوں خبر دیتے ہو دوزخ کی خبر دو کیونکہ میں نے آج اسلام کے لئے جنگ نہیں کی بلکہ ان کفار سے مجھے کوئی پر انا بغض تھا اس کا بدلہ لینے کے لئے میں ان سے لڑا۔پھر اس کی حالت جب زیادہ