سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 21
سيرة النبي علي 21 جلد 4 ا صلى الله اپنے پاس بلا لیتا ہے۔تم لوگ فتح پر خوش ہو لیکن مجھے آنحضرت ﷺ کی صحبت میں خوشی ہوتی ہے 2 اور آپ کا یہ قیافہ صحیح نکلا کیونکہ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی رسول کریم ﷺ وفات پا گئے۔حضرت ابو بکر نے جو کچھ بیان کیا یہ سنت اللہ ہے۔حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے پاس بھی ایک شخص نے بیان کیا کہ یہ بات بہت گھبراہٹ کی ہے کہ احمدیت کی فتح جلد جلد نہیں ہوتی اور بعض لوگوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا دی۔لیکن آپ کے چہرہ پر افسردگی کے آثار ظاہر ہو گئے اور فرمایا جب صبح آ جاتی ہے تو پھر نبی کی ضرورت نہیں رہتی۔ابھی جماعت کی تربیت کا کام باقی ہے۔جب یہ ختم ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فتوحات کے دروازے بھی کھول دے گا۔تو حضرت ابو بکر کی نگاہ بے شک بہت صحیح تھی اس نے وہ کچھ دیکھا جو اور نہ دیکھ سکتے تھے۔مگر رسول کریم علی کی نظرسی تیزی اس میں بھی نہ تھی اس لئے غار ثور میں آپ کو گھبراہٹ کا ہونا لازمی ( الفضل 6 اپریل 1933 ء ) تھا۔“ 1: التوبة: 40 2 بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي الله الله باب قول النبي الله سدوا الابواب الا باب أبي بكر صفحہ 613 حدیث نمبر 3654 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية