سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 23

سيرة النبي علي 23 جلد 4 خراب ہو گئی تو اس نے برچھی زمین پر گاڑی اور اس پر گر کر خودکشی کر لی۔وہ صحابی کہتے ہیں میں آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے تھے میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے رسول ہیں۔آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا؟ اس صحابی نے تمام داستان سنائی تب آپ نے بھی فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کا رسول ہوں 1۔تو ظاہری قربانیاں اگر دیکھی جائیں تو دنیا میں ہم سے زیادہ قربانیاں کرنے والے موجود ہیں گو بحیثیت قوم ہمیں امتیاز حاصل ہے مگر افراد کے لحاظ سے زیادہ قربانیاں کرنے والے مل سکتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ان کی تمام قربانیاں قوم یا ملک کے لئے ہوتی ہیں یا اس مذہب کے لئے ہوتی ہیں جسے وہ قوم کی طرح سمجھتے ہیں مگر ہم میں سے ہر شخص کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال انسانی نیت پر موقوف (الفضل 9 مئی 1933 ء ) ہوتے ہیں 2۔“ 1 بخارى كتاب الجهاد و السير باب لا يقال فلان شهيد صفحہ 479 حدیث نمبر 2898 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 2: بخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله الله صفحه 1 حدیث نمبر 1 مطبوعہ ریاض 1999 ، الطبعة الثانية