سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 323
سيرة النبي الله 323 جلد 4 اكبر۔اور سب صحابہ نے ساتھ ہی کہا اللهُ اكْبَرُ۔پھر آپ نے تیسری دفعہ کدال اٹھائی اور اپنے پورے زور سے کدال پتھر پر ماری اور پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا اور پھر آپ نے فرمایا اللہ اَکبَرُ۔اور صحابہ نے بھی اسی طرح زور سے آواز دی الله اكبر۔اس تیسری ضرب سے وہ پتھر ٹوٹ گیا اور صحابہ نے خندق کو مکمل کر لیا۔تب رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے دریافت کیا کہ تم نے تین دفعہ تکبیر کے نعرے مارے علی ہیں، تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہم نے آپ کی نقل کی۔آپ نے بھی تین دفعہ اللہ اکبر کہا تھا سو ہم نے بھی آپ کی نقل میں تین دفعہ تکبیر کے نعرے لگائے۔آپ نے فرمایا کیا تم کو معلوم ہے کہ میں نے تکبیر کیوں کہی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا جب میں نے پہلی دفعہ کدال ماری اور اس پتھر میں سے آگ کا شعلہ نکلا تو میں نے اس شعلہ میں یہ نظارہ دیکھا کہ اسلامی فوجوں کے سامنے روما کی حکومت کی فوجیں تہ و بالا کر دی گئیں۔اور میں نے اس موقع کے مناسب حال اللهُ اَكْبَرُ کہا۔پھر جب میں نے دوسری دفعہ کدال ماری اور پتھر کی چٹان میں سے آگ کا شعلہ نکلا تو مجھے نظارہ دکھایا گیا کہ اسلامی سطوت کے سامنے کسری ایران کے قصر پر زلزلہ آ گیا ہے اور اس کی شوکت تو ڑ دی گئی ہے۔تب میں نے اس کے مناسب حال تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔اور جب میں نے تیسری دفعہ کدال پتھر پر ماری اور پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا تو مجھے یہ نظارہ دکھایا گیا کہ حمیر کی طاقت اور قوت اسلام کے مقابلہ میں برباد کر دی گئی۔تب پھر میں نے خدائی بڑائی بیان کی اور تکبیر کا نعرہ لگایا۔صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ الله ! پھر جس بات پر آپ نے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی۔(الفضل 4 مارچ 1937ء ) 1 1: السيرة الحلبية الجزء الثالث غزوة الخندق صفحه 11 مطبوعہ بیروت 2012 ءالطبعة الاولى