سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 322

سيرة النبي علي 322 جلد 4 رسول کریم ﷺ کا غزوہ خندق میں پتھر توڑنا اور عظیم فتوحات کی بشارات فرمایا:۔حضرت مصلح موعود نے 22 فروری 1937ء کو قادیان میں خطبہ عید الاضحیٰ میں۔رسول کریم اے کے زمانہ میں جنگ احزاب کے موقع پر دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے ایک خندق کے کھودنے کی ضرورت پیش آئی تھی تاکہ دشمن رات اور دن کسی وقت بھی چھا پہ نہ مار سکے۔کیونکہ مسلمانوں کی فوج اتنی تھوڑی تھی کہ وہ چوبیس گھنٹے ہر مقام کا پہرہ نہیں دے سکتے تھے۔تب آدمیوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک خندق کھودی گئی تاکہ تھوڑے آدمیوں کے ذریعہ بہت آدمیوں کا کام لیا جا سکے۔جب وہ خندق کھودی جا رہی تھی تو ایک جگہ پر ایک پتھر نظر آیا جسے باوجود کوشش کے صحابہ نہ توڑ سکے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کے پاس شکایت کی کہ ایک چٹان ایسی آگئی ہے کہ اسے تو ڑا نہیں جاسکتا اور خندق مکمل نہیں ہو سکتی۔تب رسول کریم مہ خود اس جگہ پر صلى الله تشریف لے گئے اور فرمایا کہ کدال میرے ہاتھ میں دو۔اور آپ نے زور سے کدال اس چٹان پر ماری ایسے زور سے کہ لو ہے اور پتھر کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے ایک آگ کا شعلہ نکلا۔آپ نے فرمایا اللهُ اَكْبَرُ اور سارے صحابہ نے ساتھ کہا اللهُ اَكْبَرُ۔پھر آپ نے دوسری دفعہ کدال اٹھائی اور اپنے پورے زور سے پھر وہ کدال چٹان پر ماری۔اور پھر اس میں سے آگ کا ایک شعلہ نکلا اور پھر آپ نے فرمایا الله