سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 324
سيرة النبي علي 324 جلد 4 رسول کریم ﷺ کا مسیلمہ کذاب اور کفار مکہ کو جواب دو حضرت مصلح موعود مارچ 1937 ء میں ایک خطبہ نکاح میں فرماتے ہیں:۔بعض لوگ جنبہ داری میں آکر دین کو ضائع کر دیتے ہیں، بعض پر دوستوں کی محبت غالب آجاتی ہے اور وہ ان کی خاطر تقویٰ سے کام لینا چھوڑ دیتے ہیں اور بے شک وہ یہ فعل اپنی عزتوں کو برقرار رکھنے کے لئے کرتے ہوں گے مگر حقیقی عزت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک دفعہ مسیلمہ کذاب آیا اور کہنے لگا میرے پاس ایک لاکھ فوج ہے جو ہر وقت میری مدد کے لئے تیار ہے میں آپ سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنے بعد خلافت مجھے عطا کریں اور ایک لاکھ فوج حاضر ہے۔رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا میں تجھے اس تنکے کے برابر بھی کچھ دینے کے لئے تیار نہیں 1 یہ سب اللہ تعالیٰ کی امانت ہے وہ جس کو چاہے گا دے گا۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ مسیلمہ کی ایک لاکھ فوج کہاں گئی۔اس میں سے کئی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے اور اس شخص کو جسے یہ دعوی تھا کہ یہ لوگ ہر وقت میری مدد کے لئے تیار رہتے ہیں اس کو چھوڑ دیا اور کئی تھے جو ایمان نہ لائے اور صحابہ کی تلواروں سے کاٹے جا کر جہنم میں چلے گئے۔“ پھر فرمایا:۔ایک دفعہ رسول کریم عملے کے پاس مکہ کے لوگ آئے اور عرض کیا کہ آپ دین ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں ان کا بھی یہی مطلب تھا کہ رسول کریم میں تبدیلی کریں اور ہمارے ساتھ مل جائیں مگر رسول کریم ﷺ نے ان کو اُس وقت