سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 264

سيرة النبي علي 264 جلد 4 دو جو صدیوں سے گرا ہوا ہے، جس کی عزت کو دشمنوں نے خاک میں ملانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔اس مقصد کو ہم نے کبھی نہیں چھپایا گو یہ ہمیشہ کہا ہے کہ ہم اس مقصد کو امن کے ذریعہ اور دلوں کو فتح کر کے حاصل کریں گے۔مگر یہ تو ہم نے کہا ہے کہ ہم ہر حال میں سچائی کو اختیار کریں گے۔کیا ہمارے دشمنوں نے بھی یہ اقرار کیا ہوا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ شکوہ کیسا کہ حکومت کے بعض افسر کیوں آئین کو توڑتے ہیں؟ کیا انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہوئی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا اس نے خیال کیا کہ فوج پر اتنا روپیہ صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔قصائی جو روز چھری چلاتے ہیں ان سے ہی فوج کا کام لیا جا سکتا ہے۔چنانچہ سب فوج موقوف کر دی گئی۔اردگرد کے بادشاہوں کو جب یہ اطلاع ملی تو ایک بادشاہ نے جو اپنی حکومت کو وسیع کرنا چاہتا تھا اور ہمت والا تھا حملہ کر دیا۔بادشاہ نے قصائیوں کو جمع کر کے حکم دیا کہ جا کر مقابلہ کرو۔وہ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد شور مچاتے ہوئے آگئے کہ ظلم ! داد، فریاد، بے انصافی۔بادشاہ نے دریافت کیا تو کہنے لگے کہ دشمن کا لشکر بہت بے انصافی کرتا ہے۔ہم تو چار چار مل کر ایک آدمی کو پکڑتے اور سر اور پاؤں کو پکڑ کر با قاعدہ بسم اللہ کہہ کے چھری پھیرتے ہیں لیکن دشمن بے تحاشا تلواریں مار مار کر ہمارے بیسیوں آدمی ہلاک کر دیتا ہے اس لئے اس کا ازالہ کیا جائے۔اسی طرح ہمارے بعض نادان بھی یہی شور کرتے ہیں کہ ہم سچ بولتے ہیں اور آئینی طریق اختیار کرتے ہیں مگر ہمارے دشمن غیر آئینی کا رروائیاں کرتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ان کی بات ایسی ہی ہے جیسے قصائیوں نے کی تھی۔کیا ہمارا دشمن بھی سچائی کا پابند ہے؟ کیا وہ بھی میری ہدایتوں پر نے کیلئے تیار ہے؟ کیا اس کے اخلاق کا بھی وہی معیا ر ہے جو تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے؟ کیا اس نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہوئی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ تم سچ بولتے ہو اور