سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 265
سيرة النبي عليه 265 جلد 4 تمہارا دشمن جھوٹ ، تم آئین کے مطابق چلتے ہو اور وہ غیر آئینی ذرائع اختیار کرتا ہے، تم رحم کرتے ہو اور وہ بختی ، اگر تم میں اور اس میں یہ فرق نہ ہوتا تو تم کو احمدیت میں داخل ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی۔دوسری طرف رحم کا معاملہ ہے۔بہت تم میں ہیں جو چاہتے ہیں کہ اگر دشمن قابو آئے تو اس سے پوری طرح بدلہ لیا جائے لیکن یاد رکھو یہ طریق مسلمان کا نہیں ہوتا۔مومن سے جب معافی طلب کی جاتی ہے تو وہ معاف کر دیتا ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی ممانعت آچکی ہو۔بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی خاص مصلحتوں کے ماتحت رحم سے روک دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ہر چیز پر حاوی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم علیہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے عَفَا الله عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ 7 منافق جنگ میں نہ جانے کی اجازت لینے آئے اور تُو نے اجازت دے دی۔اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور کرے جو اس رحم سے پیدا ہوگی تو نے کیوں اجازت دی؟ محمد رسول اللہ علیہ سے خدا کا علم زیادہ تھا اس لئے یہ فرمایا۔پس ایسے مواقع کے علاوہ جہاں خدا کا حکم ہم کو رو کے شدید سے شدید دشمن بھی اگر ہتھیار ڈال دے تو ہمارا غصہ دور ہو جانا چاہئے۔ہاں مومن بیوقوف نہیں ہوتا اور وہ کسی کے دھوکا میں نہیں آتا۔رسول کریم ﷺ تو یہاں تک احتیاط فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے میدانِ جنگ میں جب ایک مسلمان اسے مارنے لگا تھا کہہ دیا کہ میں صابی ہوتا ہوں۔کفار مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے جس طرح آج ہمیں مرزائی کہتے ہیں حالانکہ یہ سخت بداخلاقی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضگی اپنے اوپر لے لی مگر پھر بھی ہم انہیں مسلمان ہی کہتے ہیں۔عیسائیوں کو عیسائی اور یہودیوں کو یہودی کہتے ہیں۔یہ نہیں کہتے کہ تم کہاں کے ہدایت یافتہ ہو۔مگر جو لوگ دین سے بے بہرہ ہوں ان کے اخلاق گر جاتے ہیں اور وہ دوسرے کا نام بھی ٹھیک طرح نہیں لینا چاہتے۔تو اُس وقت کے صلى