سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 263

سيرة النبي علي 263 جلد 4 الله جماعت سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا ان میں بھی وہی جرات اور وہی رحم ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے دکھایا ؟ ہمارے دوستوں کی حالت یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو دوست گھبرا جاتے ہیں کہ اب ہم قید ہو جائیں گے ، پکڑے جائیں گے۔کیا انہیں پتہ نہیں کہ جب انہوں نے احمدیت کو قبول کیا تھا تو اُس وقت یہ سب چیزیں ان کے سامنے رکھ دی گئی تھیں۔کیا انہیں کسی نے دھوکا سے احمدیت میں داخل کر لیا تھا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جو لوگ تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتے ان کا راستہ مجھ سے الگ ہے۔میرا راستہ پھولوں کی سیج پر نہیں بلکہ کانٹوں پر ہے۔کسی سے کوئی دھوکا نہیں کیا گیا۔ہر شخص جو احمدیت میں داخل ہوتا ہے یہ سمجھ کر ہوتا ہے کہ یہ سب تکالیف اسے برداشت کرنی پڑیں گی پھر شکایت کیسی ! اگر تو ہم کسی سے کہتے کہ آؤ احمدی ہو جاؤ ہم تمہیں بڑے بڑے عہدے دلائیں گے، دولت دیں گے، بیماریوں اور تکلیفوں سے بچائیں گے ، عمدہ عمدہ عورتوں سے شادیاں کر دیں گے ، تمہارے بچوں کی تعلیم کا انتظام کر دیں گے تو شکایت ہوسکتی تھی مگر ہم تو شروع دن سے یہی کہتے کہ خدا نے ہمیں اس لئے چن لیا ہے کہ دین کے لئے ہمیں قربانی کی بھیڑیں بنائے۔اگر ابتلاؤں کی تلواروں سے گردن کٹوانی ہے، اگر اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون سے ہولی کھیلنی ہے تو آؤ۔تو پھر کوئی شکایت کا موقع۔نہیں۔یہ بزدل کا کام نہیں اور ڈرپوک ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ تا محمد علی کی بادشاہت کو پھر قائم کریں اور ظاہر ہے کہ شیطان کے چیلے جنہیں اس سے پہلے انسانوں پر بادشاہت حاصل ہے وہ سیدھے ہاتھوں اپنی بادشاہتیں ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔وہ ہر تدبیر اختیار کریں گے جس سے ہمیں کچلا جا سکے اور ہر سامان مہیا کریں گے جس سے ہماری طاقت کو توڑا جا سکے۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ جاؤ اور اُس وقت تک دم نہ لو جب تک محمد رسول اللہ ﷺ کا وہ جھنڈا دنیا کے تمام مذاہب کے قلعوں پر نہ گاڑ