سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 240
سيرة النبي عليه کر حیرت آجاتی ہے۔240 جلد 4 دنیا میں ایک شخص جرنیل ہوتا ہے اور وہ جرنیلی کے کاموں میں ہی تھکا رہتا ہے، کوئی استاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ سکول کا کام اتنا زیادہ ہے کہ دماغ تھک جاتا اور جسم پھر چور ہو جاتا ہے ، ایک حج ہوتا ہے اور وہ یہ شور مچاتا رہتا ہے کہ نجی کا کام اتنا زیادہ ہے کہ میری طاقت برداشت سے بڑھ کر ہے، ایک وکیل ہوتا ہے اور وہ یہ شہ شکوه کرتا رہتا ہے کہ وکالت کا کام اتنا بھاری ہے کہ مجھے اس سے ہوش ہی نہیں آتا، ایک میونسپل کمیٹی کا پریذیڈنٹ ہوتا ہے اور وہ اس امر کا اظہار کرتا رہتا ہے کہ اتنا زیادہ کام ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا اسے کس طرح کروں ،ایک لیجسلیٹو اسمبلی کا سیکرٹری ہوتا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ قانون سازی کا کام اتنا بھاری ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہوں۔غرض ایک ایک کام انسان کی کمر توڑ دینے کیلئے کافی ہے مگر محمد ﷺ کی زندگی میں یہ سارے کام بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بیسیوں کام ہمیں ایک جگہ اکٹھے نظر آتے ہیں۔محمد علی معلم بھی تھے کیونکہ آپ لوگوں کو دین پڑھاتے اور رات دن پڑھاتے ، محمد اے جی بھی تھے کیونکہ آپ لوگوں کے جھگڑوں کا تصفیہ کرتے محمد ﷺ پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی کے فرائض بھی سرانجام دیتے کیونکہ بلدیہ کے حقوق کی نگرانی و صفائی کی نگہداشت اور چیزوں کے بھاؤ کا خیال رکھنا یہ سب کام آپ کرتے ، پھر رسول کریم اللہ مفتن بھی تھے کیونکہ آپ قرآن کریم کے احکام کے ماتحت لوگوں کو قانون کی تفصیلات بتاتے اور ان کا نفاذ کرتے ، اسی طرح رسول کریم علی جرنیل بھی تھے کیونکہ آپ لڑائیوں میں شامل ہوتے اور مسلمانوں کی جنگ میں راہبری صلى الله فرماتے ، رسول کریم ﷺ بادشاہ بھی تھے کیونکہ آپ تمام قسم کے ملکی اور قومی انتظامات صلى الله کا خیال رکھتے ، پھر اس کے علاوہ اور بھی بیسیوں کام تھے جو رسول کریم ﷺ کے سپرد تھے مگر آپ یہ سب کام کرتے اور اسی علاقہ میں رہ کر کرتے جس میں رہنے والوں کی ستی کی دلیل بعض ڈاکٹر یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ ملیریا زدہ علاقہ ہے۔آخر آپ بھی تو