سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 241
سيرة النبي علي 241 جلد 4 ایشیا کے ہی رہنے والے تھے یورپ کے رہنے والے تو نہ تھے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہمیں اپنی صحت کی درستی کا خیال رکھنا چاہئے اور ملیریا کو اس بات کا موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ ہماری تندرستی بر باد کرے مگر ملیر یا بھی تو بعض کمزوریوں کی وجہ سے ہی آتا ہے یا روحانی کمزوریاں ملیریا کا شکار بنادیتی ہیں یا جسمانی سستیاں ملیریا کا شکار بنادیتی ہیں یا امنگوں کی کمی ملیریا کا شکار بنا دیتی ہے۔دنیا میں امنگ بھی بہت حد تک بیماریوں کا مقابلہ کرتی ہے۔بے شک بداحتیاطی اور بد پر ہیزی بھی بیماری لانے کا باعث بنتی ہے مگر امنگیں بیماری کو دبا لیتی ہیں لیکن وہ جو پہلے ہی اپنے ہتھیار ڈال چکا ہو اور کہے کہ آبیل مجھے مار اور بیماریوں کے مقابلہ کی تاب اپنے اندر نہ رکھتا ہو اس پر بیماری بہت جلد غلبہ پالیتی ہے۔لیکن وہ جو اپنی امنگوں کو زندہ رکھتا، اپنی قوتِ ارادی کو مضبوط کرتا اور اپنے حوصلہ کو بلند رکھتا بیماری اس پر غلبہ نہیں پاسکتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی حکومت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔اگر بیماری اس پر حکومت کرنا چاہے تو وہ اس کی حکومت سے بھی انکار کر دیتا ہے۔پس میں تسلیم کرتا ہوں کہ بیماری کا علاج ہونا چاہئے مگر میں یہ ہرگز تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ یہ ست اور نکما بنانے کا کافی سبب ہے۔ایسے ہی حالات میں رسول کریم ﷺ نے جس محنت اور مشقت کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے آپ کے متبعین میں سے کسی کو یہ جرات نہیں ہوسکتی کہ وہ کہے کہ ملیریا ہے کا ہمارے ملک میں پایا جانا ہمارے ملک کی سستی اور غفلت کیلئے کافی عذر ہے۔ہم جب رسول کریم ﷺ کی زندگی دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے آپ آدھی رات کے بعد اٹھ بیٹھتے اور عبادت شروع کر دیتے ہیں۔اسی عبادت کے دوران میں فجر کی اذان ہوتی ہے اور آپ کو نماز کیلئے اطلاع ملتی ہے۔رسول کریم ﷺ نما ز پڑھانے چلے جاتے ہیں۔نماز پڑھا کر آپ مسجد میں ہی بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں جس کو کوئی ضرورت اور احتیاج ہو وہ بیان کرے۔اس پر پہلے جن جن لوگوں کو رات کو کوئی