سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 231
سيرة النبي علي 231 جلد 4 66 متعلق ایک ظالمانہ حکم دیا تھا ہم اسے بھی منسوخ کرتے ہیں 1۔“ نیز فرمایا:۔( الفضل 10 مارچ 1936ء) ایک جنگ کے بعد رسول کریم ﷺ کو قتل کرنے کی غرض سے ایک شخص اسلامی لشکر کے پیچھے پیچھے بڑی دور تک چلا آیا۔صحابہ ایک جگہ آرام کرنے کے لئے لیٹے تو انہوں نے غلطی سے رسول کریم علیہ کیلئے پہرہ کا کوئی انتظام نہ کیا اور خیال کیا کہ تھوڑی دیر ٹھہرنا ہے اور اس جنگل میں کون حملہ کرنے آئے گا۔رسول کریم عہ بھی ایک درخت کے نیچے سو گئے۔وہ دشمن آیا اور آپ ہی کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی اتار کر اُس نے آپ کو جگایا اور پوچھا کہ اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے سادگی سے فرمایا اللہ 2 اور اس بہادرانہ ایمانی رنگ کا اُس پر ایسا اثر ہوا کہ اُس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔آپ نے اُسے اٹھایا اور پوچھا اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو کریں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں اللہ تعالیٰ ہی بچا سکتا ہے جاؤ ( الفضل 10 مارچ1936ء ) چلے جاؤ۔1 تاريخ الطبرى الجزء الثانى ذكر الاحداث التى كانت فى سنة ست من الهجرة صفحہ 133 134 مطبوعہ بیروت 2012 ، الطبعة الخامسة 2: بخارى كتاب المغازى باب غزوة ذات الرقاع صفحه 700 حدیث نمبر 4135 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 3: السيرة الحلبية الجزء الثاني غزوة ذات الرقاع صفحه 558 مطبوعہ بیروت 2012 ء الطبعة الاولى