سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 230

سيرة النبي علي 230 جلد 4 رسول کریم مے کی حفاظت الہی حضرت مصلح موعود نے 31 جنوری 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔’ایک دفعہ ایران کے بادشاہ نے گورنر یمن کو لکھا کہ رسول کریم ﷺ کو گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دیا جائے۔گورنر نے بعض آدمی مدینہ میں بھیجے جنہوں نے جا کر کہا کہ ہمارے شہنشاہ کا ایسا حکم ہے۔آپ نے انہیں فرمایا کہ ٹھہر و ہم دو تین دن تک جواب دیں گے۔جب ایک دو دن گزر گئے تو انہوں نے کہا کہ دیر ٹھیک نہیں گورنر یمن نے کہا ہے کہ بادشاہ نے غلط خبروں کی بنا پر ایسا حکم دیا ہے آپ آجائیں تو میں سفارش کر دوں گا۔آپ نے فرمایا کہ ٹھہر وہم جواب دیں گے۔اگلے روز انہوں نے پھر از راہ نصیحت کہا کہ دیر اچھی نہیں بادشاہ بگڑ جائے گا۔آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گورنر سے کہہ دو کہ ہمارے خدا نے اس کے خدا کو مار دیا ہے۔انہوں نے پھر خیر خواہی کے طور پر کہا آپ انکار نہ کریں بادشاہ ناراض ہو گیا تو آپ کی ساری قوم کو تباہ کر دے گا مگر آپ نے فرمایا کہ بس جاؤ اور یہ جواب دے دو۔وہ چلے گئے اور گورنر کو یہ جواب دے دیا۔اُس نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے اگر یہ بات ٹھیک نکلی تو یہ شخص سچا ہوگا۔چند روز کے بعد ایک جہاز ایران سے آیا جس میں سے کچھ افسر نکلے اور انہوں نے گورنر کو ایک سر بمہر لفافہ دیا۔مہر کو دیکھتے ہی گورنر نے کہا کہ مدینہ والے شخص کی بات سچی معلوم ہوتی ہے کیونکہ خط پر مہر نئی تھی۔جب اس نے لفافہ کھولا تو اُس میں لکھا تھا کہ ہمارا باپ ظالم تھا اس لئے ہم نے اسے قتل کر کے زمام حکومت خود سنبھال لی ہے تم لوگوں سے ہماری وفاداری کا عہد لو۔نیز ہمارے باپ نے مدینہ کے ایک شخص کے