سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 221
سيرة النبي عمال 221 جلد 4 پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَاءٍ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے رسول کے دل پر سکینت نازل کی اور جب ظاہری لشکر نا پید تھے اُس نے اس کی مدد ایسے لشکروں کے ذریعہ سے کی جو دنیا کو نہ نظر آتے تھے۔اب بھی دیکھ لو کہ احمدی جماعت جس قدرستی تبلیغ میں کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کی کسر پوری کر دیتے ہیں۔کئی لوگ بیعت کے لئے آتے ہیں اور پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ بیعت کا حکم ہمیں کشف یا رویا میں ہوا تھا۔کئی دفعہ حکم ہوا لیکن ہم سستی کرتے رہے آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انذار آیا کہ اگر بیعت نہ کرو گے تو تمہارا خاندان تباہ کر دیا جائے گا اس پر ہم بیعت کے لئے آمادہ ہو گئے۔جس پیرے کا قصہ میں نے سنایا ہے اُس کے ایک بھتیجے کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔وہ پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا پھر یکدم نمازیں پڑھنے لگ گیا اور اُس نے بیعت کر لی۔دو چار دن برابر نمازوں میں دیکھ کر حضرت خلیفہ اول نے اُس سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ تم با قاعدہ نماز پڑھتے ہو پہلے تو باوجود بار بار کی تاکید کے تم نمازوں سے بھاگتے تھے۔اُس نے اپنے پنجابی لہجہ میں کہا کہ مولوی صاحب! مجھے بھی ہلام ہوا تھا (الہام ہوا تھا ) کہ تو نماز پڑھا کر۔حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کیا الہام ہوا تھا ؟ تو اُس نے کہا یہ الہام ہوا تھا اوٹھ اوئے سورا ! نماز پڑھ۔یعنی اوسو راٹھ کر نماز پڑھ۔غرض خدا تعالیٰ کو آدمیوں کی ضرورت نہیں وہ کام لینا چاہے تو ملائکہ سے ہی کام لے لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی ترقی کے لئے دیانت اور امانت کی آدمیوں سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو لوگ دیانتداری کے ساتھ چلنا نہیں چاہتے انہیں چاہئے کہ پیچھے ہٹ جائیں اور میدان سے الگ ہو جائیں اور یہ بالکل نہ کہیں کہ ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ وہ اس طرح اپنے آپ کو اور گنہگار بناتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلَى ، باوجود اس کے کہ ہمارا رسول اکیلا تھا گو ابو بکڑ ساتھ تھے مگر وہ بھی آپ میں مدغم تھے کیونکہ