سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 222
سيرة النبي علي 222 جلد 4 صدیق اُسی کو کہتے ہیں جو نبی سے کامل اتحاد رکھتا ہو پس ان کے ساتھ ہونے کے باوجود آپ اکیلے تھے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے کفار کی مجموعی تدابیر کو ناکام بنا دیا اور اُس نے فتح دی۔پس ظاہری تدبیروں سے کچھ نہیں بنتا ہم تو صرف تمہیں ثواب کا موقع دیتے ہیں۔وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ الله تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے پس اُسے کسی کی احتیاج ہی کیا ہو سکتی ہے۔پھر فرمایا انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا و جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ 2 - یعنی ہم اپنے قول کو دوبارہ دہراتے ہیں کہ اتنی نصیحت کے بعد شاید تمہارے دل نرم ہو گئے ہوں اور تم حکم خدا وندی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو۔اور کہتے ہیں کہ تم کو چاہئے کہ حالات کے تقاضا کے مطابق تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل کھڑے ہو۔خواہ خفیف ہونے کی حالت میں خواہ ثقیل ہونے کی حالت میں۔خفیف اور ثقیل کے معنی جوان اور بوڑھے کے بھی ہو سکتے ہیں، غریب اور امیر کے بھی ، تندرست اور بیمار کے بھی ، فارغ اور مشغول کے بھی ، مجرد اور متاہل کے بھی، بے سروسامان اور ساز وسامان والے کے بھی ، سوار اور پیادہ کے بھی اور اکیلے اور جتھے والے کے بھی۔ان حالتوں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کو خدا کی راہ میں نکل کھڑا ہونا چاہئے اور اپنے اموال اور اپنی جانوں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا چاہئے۔“ الفضل 21 دسمبر 1935ء ) صلى الله 1: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول استيثاق الرسول عليه من امر الانصار صفحه 675 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى 2 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول حديث هجرته الى المدينة صفحه 542 تا 544 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى السيرة الحلبية الجزء الثاني باب عرض صلی الله عليه وسلم نفسه على القبائل صفحہ 206 مطبوعہ بیروت 2012 ء رسول ا الله الطبعة الأولى