سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 220
سيرة النبي علي 220 جلد 4 کی کھڑکی کے۔اور اس طرح آپ کے عشق کی آنحضرت ﷺ نے داد دی کیونکہ یہ عشق کامل تھا جس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بتا دیا کہ اس فتح ونصرت کی خبر کے پیچھے آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر ہے اور آپ نے اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی جان کا فدیہ پیش کیا کہ ہم مر جائیں مگر آپ زندہ رہیں۔رسول کریم ﷺ کی وفات پر بھی حضرت ابوبکر نے اعلیٰ نمونہ عشق کا دکھایا۔غرض حضرت ابو بکر نے غار ثور میں اپنی جان کے لئے گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا بلکہ رسول کریم مے کے لئے۔اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو خاص طور پر تسلی دی۔اس واقعہ کی طرف ان آیات میں اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس خطر ناک موقع پر کس نے رسول کریم علیہ کی صلى الله مدد کی تھی ؟ اُس وقت بھی ہم نے ہی اُسے بچایا تھا اور اگر آج بھی تم جواب دے دو تو ہم خود اس کی مدد کریں گے۔پس اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ یہ طریق بالکل غلط ہے کہ نہ کام کیا جائے اور نہ جواب دیا جائے کوئی شریف انسان اس طریق کو اختیار کرنا پسند نہیں کرے گا۔میرے ہاتھ میں تلوار نہیں کہ کوئی کہہ دے میں ڈر گیا تھا اور ڈر کر میں نے اقرار کر لیا تھا۔جب کوئی شخص کام کرنا نہیں چاہتا تو وہ کہہ دے یا جس حد تک کرنا چاہتا ہے وہ بتا دے مگر جب کوئی شرط نہیں تو پھر کیوں تساہل سے کام لیا جاتا ہے۔بے شک جس کا دل چاہے ہٹ جائے اللہ تعالیٰ اپنے سلسلہ کی ترقی اور حفاظت کے سامان خود پیدا کر دے گا۔گھبراہٹ اگر ہو سکتی ہے تو مجھے جس پر ذمہ داری ہے مگر میں جانتا ہوں کہ خواہ سارے مجھے چھوڑ جائیں اللہ تعالیٰ خود میری مدد کا سامان پیدا کر دے گا اور مجھے کامیابی عطا کرے گا لیکن بفرض محال اُس نے میرے لئے اس جدو جہد میں موت ہی مقدر کی ہوئی ہے تو میں اس موت کو برانہیں سمجھتا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا بھی خواہ بظاہر نا کامی کی شکل میں بہت پیارا ہوتا ہے پس جسے دنیا نا کامی سمجھتی ہے وہ بھی میرے لئے کامیابی ہے اور جو اس کے نزدیک کامیابی ہے وہ بھی میرے لئے کامیابی ہی ہے۔