سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 218

سيرة النبي ما 218 جلد 4 مجھے اس وقت بچپن کی ایک بات یاد آ گئی مجھے اس پر ہنسی بھی آیا کرتی ہے اور اس پر ناز بھی۔ہے تو وہ جہالت کی بات مگر ایسی جہالت جس پر عقل کے ہزاروں فعل قربان کئے جا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ رات کے وقت صحن میں سور ہے تھے کہ بادل زور شور سے گھر آئے اور بجلی نہایت زور سے کڑکی۔وہ کڑک اس قدر شدید تھی کہ ہر شخص نے یہی سمجھا کہ گویا بالکل اُس کے پاس بجلی گری ہے۔اس کیفیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ہمارے بورڈنگ ہاؤس کا ایک لڑکا اُس وقت گھبرا کر چار پائی سے گر پڑا اور اس نے خیال کیا کہ بجلی مجھ پر گری ہے اور اس خوف سے اس نے شور مچانا شروع کیا مگر دہشت کی وجہ سے اُس کی زبان سے لفظ تک نہیں نکلتا تھا۔سننے والے حیران تھے کہ وہ چار پائی کے نیچے پڑا ہوا بلی بلی کا شور کر رہا تھا آخر کچھ دیر کے بعد وہ سمجھے کہ یہ بجلی بجلی کر رہا ہے۔خیر تو جب بادل زور سے آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو صحن میں سو رہے تھے چار پائی سے اٹھ کر کمرہ کی طرف جانے لگے۔دروازہ کے قریب پہنچے کہ بجلی زور سے کڑکی۔میں اُس وقت آپ کے پیچھے تھا میں نے اُسی وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر آپ کے سر پر رکھ دیئے۔اس خیال۔کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے آپ پر نہ گرے۔اب یہ ایک جہالت کی بات تھی بجلیاں جس خدا کے ہاتھ میں ہیں اُس کا تعلق میری نسبت آپ سے زیادہ تھا بلکہ آپ کے طفیل میں بھی بجلی سے بچ سکتا تھا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہاتھوں سے بجلی کو نہیں روکا جاسکتا مگر عشق کی وجہ سے مجھے ان سب باتوں میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی۔محبت کے وفور کی وجہ سے یہ سب باتیں میری نظر سے اوجھل ہو گئیں اور میں نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔یہ جہالت کی بات تھی مگر اس جہالت پر میں آج بھی ہزار عقل قربان کر دینے کے لئے تیار ہوں کیونکہ یہ جہالت عشق کی وجہ سے تھی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی آنحضرت ﷺ سے عشقیہ تھا۔جب آپ مدینہ میں داخل ہونے کے لئے مکہ سے نکلے تو اُس وقت بھی آپ کا تعلق عاشقانہ تھا