سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 219
سيرة النبي عمال 219 جلد 4 اور جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو اُس وقت بھی تعلق عاشقانہ تھا۔چنانچہ جب آنحضرت ل پر اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا 3 کی وحی قرآنی نازل ہوئی جس میں مخفی طور پر آپ کی وفات کی خبر تھی تو آپ نے خطبہ پڑھا اور اُس میں اس سورۃ کے نزول کا ذکر فرمایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اپنی رفاقت اور دنیوی ترقیات میں سے ایک کے انتخاب کی اجازت دی اور اُس نے خدا تعالیٰ کی رفاقت کو ترجیح دی۔اس سورۃ کوسن کر سب صحابہؓ کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے اور سب اللہ تعالیٰ کی تکبیر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اب یہ دن آ رہا ہے مگر جس وقت باقی سب لوگ خوش تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی چیخیں نکل گئیں اور آپ بے تاب ہو کر رو پڑے اور آپ نے کہا يَا رَسُولَ اللَّهِ! آپ پر ہمارے ماں باپ اور بیوی بچے سب قربان ہوں۔آپ کے لئے ہم ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔گویا جس طرح کسی عزیز کے بیمار ہونے پر بکرا ذبح کیا جاتا ہے اُسی طرح حضرت ابو بکر نے اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی قربانی آنحضرت کے لئے پیش کی۔آپ کے رونے کو دیکھ کر اور اس بات کو سن کر بعض صحابہ نے کہا دیکھو! اس بڑھے کو کیا ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو اختیار دیا ہے کہ خواہ وہ رفاقت کو پسند کرے یا دنیوی ترقی کو اور اُس نے رفاقت کو پسند کیا یہ کیوں رو رہا ہے؟ اس جگہ تو اسلام کی فتوحات کا وعدہ پیش کیا جا رہا ہے۔حتی کہ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی نے بھی اس کا اظہار حیرت کیا۔رسول کریم علیہ نے لوگوں کے اس استعجاب کو محسوس کیا اور حضرت ابو بکر کی بیتابی کو دیکھا اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا کہ ابو بکر مجھے اتنے محبوب ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ان کو خلیل بناتا۔مگر اب بھی یہ میرے دوست اور صحابی ہیں 4۔پھر فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ آج سے سب لوگوں کے گھروں کی کھڑکیاں جو مسجد میں کھلتی ہیں بند کر دی جائیں سوائے ابو بکر