سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 6

سيرة النبي عليه 6 جلد 4 علم طب میں ترقی جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمہ حکمت بیان فرمایا اُس وقت علم طب کی صرف دو شاخیں تھیں یعنی یونانی اور ویدک۔باقی سب علاج انہی کی شاخیں تھیں یا ایسے طریق علاج تھے جو سائنس یا علم کہلانے کے مستحق نہ تھے لیکن اس کے بعد یورپ کی توجہ علم کی طرف پھرنے سے یونانی طریق علاج میں سے نشو و نما پا کر ایلو پیتھک طریق علاج نکل آیا۔اس کے بعد ہو میو پیتھک طریق علاج یعنی علاج بالمثل کی دریافت نے طبی دنیا میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا اور یہ معلوم کر کے انسان کو سخت حیرت ہوئی کہ اس کی شفایابی کے لئے اللہ تعالیٰ نے نہایت حکمت سے ان ہی ادویہ میں قوت شفا بھی رکھی ہوئی ہے جن سے اس قسم کی مرض پیدا ہوتی ہے۔گویا بیماری کے ساتھ ہی اس کا علاج بھی رکھا ہے۔جو چیز جس قسم کی بیماری بڑی مقدار میں پیدا کرتی ہے اس کی تھوڑی مقدار جو زہر یا بداثر ڈالنے کی حد سے نکل جائے اسی قسم کی بیماری کے رفع کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔اس طریق علاج سے بہت سے امراض جو پہلے لا علاج سمجھے جاتے تھے قابل علاج ثابت ہو گئے اور طبی علوم میں بہت ترقی ہوئی۔اسی طرح علاج بالماء یعنی ہیڈ رو پیتھی کے معلوم ہونے سے صرف غسل اور گیلے کپڑوں کی مالش سے بہت سی امراض کا علاج ہونے لگا اور بہت سے گہنہ امراض کے دفع کرنے میں اس علاج سے مدد ملی۔ٹو یلو ٹشو ریمیڈیز (Twelve Tissue Remedies ) یعنی بارہ نمکوں کے علاج کی ایجاد نے علاج کو ایسا آسان کر دیا کہ اب ہر ایک شخص کی مقدرت میں ہو گیا کہ وہ طبیب کے نہ ملنے کی صورت میں آسانی سے بغیر کسی خاص علم کے محض کتاب دیکھ کر معمولی اور روزمرہ کی شکایات کا علاج کر سکے اور صرف ان بارہ معدنی اجزا کے ذریعہ جن سے انسانی جسم بنا ہے تمام بیماریوں کا علاج ممکن ہو گیا۔الیکٹرو ہو میو پیتھی کے طریق علاج نے طب کے دائرہ عمل کو اور بھی وسیع کر دیا ہے اور بنی نوع انسان کے لئے شفایابی کے دروازے کھول دیئے۔