سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 7
سيرة النبي علي 7 جلد 4 سائیکیوانیلیسز (Psychoanalysis) کے طریق علاج نے بہت ایسی امراض کے علاج کا دروازہ کھول دیا ہے جو فکر و خیال کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور جن کا علاج صرف دواؤں سے ہونا ناممکن تھا۔علاج بالتوجہ اور توجہ ذاتی نے شفا کو انسان کے ایسا قریب کر دیا کہ گویا شفا حاصل کرنے کے لئے ارادہ کی دیر ہوتی ہے۔ارادہ کیا اور بہت سی شفا ہوئی۔ویکسین اور سیرم کی ایجاد نے علم طب میں ایک ایسا مفید اضافہ کیا ہے کہ اس کی قیمت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے۔درحقیقت اس طریق علاج سے ہزاروں لاکھوں مریضوں کو ہر سال ایسے رنگ میں آرام ہوتا ہے کہ اس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سگ گزیدہ اور خناق اور کز از وغیر ہا کے علاج اور انفلوئنزا اور محرقہ وغیر ہا کے حفظ ما نتقدم میں اس سے اس قدر مدد ملی ہے کہ اس پر جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کیا جائے کم ہے۔مددملی بلحاظ زمانہ کے سب سے آخر میں لیکن بلحاظ اثر کے اعلیٰ درجہ کے طریقہ ہائے علاج میں سے آٹو ہیمک (Autohemic) طریق علاج کی ایجاد ہے جسے امریکہ میں 1910 ء میں ڈاکٹر راجرز نے ایجاد کیا ہے۔اس طریق علاج کے ذریعہ خود بیمار کا خون چند قطرے لے کر اور خاص طور پر تیار کر کے مریض کے جسم میں پرکاری کے ذریعہ داخل کر کے تمام مزمن امراض کا علاج کیا جاتا ہے اور ان چند سال کے عرصہ میں ہی اس میں اس قدر کامیابی ہوئی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ان مختلف طریقہ ہائے علاج کی دریافت کے علاوہ اور بہت سی ایسی دریافتیں ہوئی ہیں جن سے علاج یا تشخیص کہ جو علاج صحیح کے لئے ضروری ہے بہت سہل ہوگئی ہے۔مثلاً خوردبین کی ایجاد ہے اس کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوا ہے کہ بہت سی بیماریاں نہایت باریک کیڑوں سے پیدا ہوتی ہیں اور جس وقت بیماری کی تشخیص مشکل ہو اس کے ذریعہ سے معلوم کر لیا جاتا ہے کہ کس مرض کے کیڑے انسان کے جسم میں پائے جاتے ہیں۔یا مثلاً خون کا امتحان ہے اس کے ذریعہ سے بھی تشخیص میں بہت سی