سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 5

سيرة النبي عمال 5 جلد 4 اسی طرح رسولیاں اور بعض خاص قسم کے سیلان خون جو پہلے لا علاج اور مہلک سمجھے جاتے تھے اب ان کا آپریشنوں اور دواؤں سے علاج آسان ہو گیا ہے۔اور بیسیوں بیماریاں ہیں جیسے ذیا بیطس ، سل ، جگر کے پھوڑے، ہیضہ، کوڑھ، تپ محرقہ ، بیماری ہائے قلب ، سرطان، ہڈی کا شکستہ ہو کر باہر آ جانا، فتق ، کبورت دم، بول الدم، ٹیرا پن ، اپنڈی سائٹس، آنکھ کے اعصاب کے فالج سے بینائی کا جاتے رہنا، نواسپر انتڑیوں میں بل پڑ جانا، بچہ کا رحم میں پھنس جانا وغیر ہا جن کے علاج یا تو بالکل نہ تھے یا اگر تھے تو محض خیالی کیونکہ ان علاجوں کا یقینی نتیجہ نہیں نکلتا تھا اور نہیں کہا جا سکتا تھا کہ صحت دواؤں کے اثر سے ہوتی ہے یا خود بخو دطبیعت اچھی ہو گئی ہے لیکن ان کے ایسے علاج نکل آئے کہ علمی طور پر ان کو یقینی علاج کہا جا سکتا ہے۔اس ترقی کو دیکھ کر اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن بیماریوں کا علاج اب تک نہیں ملا یا ناقص علاج ملا ہے ان کا علاج بھی مل جائے گا اور یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ ہر ایک بیماری کا علاج موجود ہے، بالکل سچ تھا اور ایک ایسا نکتہ حکمت تھا جسے اس زمانہ کے حالات کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ اس زبردست ہستی کی طرف سے القا کیا گیا تھا جو نیچر کی پیدا کرنے والی اور اس کی طاقتوں سے واقف ہو۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی کہ ہر مرض کا علاج موجود ہے صرف اسی رنگ میں تائید نہیں ہوئی کہ بعض امراض جو پہلے لا علاج یا بمشکل علاج پذیر سمجھی جاتی تھیں ان کے لئے اب مفید اور سہل علاج دریافت ہو گئے ہیں بلکہ اس طرح بھی کہ کئی طریق علاج نئے دریافت ہوئے ہیں جن سے علاوہ لاعلاج امراض کے علاج معلوم ہونے کے دوسری امراض کے علاج میں بھی سہولت پیدا ہوگئی ہے اور یا تو صحت کا حاصل ہونا پہلے سے آسان ہو گیا ہے یا دواؤں کی قیمت اور خرچ میں کفایت ہو گئی ہے۔