سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 159
سيرة النبي علي 159 جلد 4 وو پہلی وحی اور حضرت خدیجہ کی تسلی حضرت مصلح موعود نے 21 دسمبر 1934ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا:۔رسول کریم ﷺ پر غار حرا میں جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیز اپنی ذمہ داریوں کے احساس کی وجہ سے اور ان کے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے آپ اپنی وفادار بیوی حضرت خدیجہ کے پاس مشورہ کرنے گئے۔اُس وقت حضرت خدیجہ نے آپ سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے تو ضرور اس کے بجالانے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو الہام ہوتے ہیں وہ یا تو انعامی ہوتے ہیں یا امتحانی کبھی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس کا امتحان لینے کے لئے الہام نازل کرتا ہے تا اس کے اندر جوشر ہو وہ ظاہر ہو جائے اور کبھی الہام اس لئے نازل کرتا ہے کہ اپنے بندے کو اونچا کرے۔حضرت خدیجہ نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔كَلَّا وَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَداً 1 یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ہرگز رسوا نہیں کرے گا۔اگر آپ کا یہ خیال ہو کہ یہ الہام امتحانی ہے تو میں اسے مان نہیں سکتی۔میں چونکہ آپ کی ذات سے پوری طرح آگاہ ہوں اس لئے میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا۔اور ایسا نہ ہونے کی بنا آپ نے جن اخلاق پر بتائی ان میں سے ایک یہ ہے کہ تكْسِبُ الْمَعْدُومَ 2 یعنی دنیا سے جو نیکیاں معدوم ہو چکی ہیں وہ آپ سے ظاہر ہو رہی ہیں۔“ ( الفضل 27 دسمبر 1934 ء ) 21:بخارى كتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله ع صفحہ 1 حدیث نمبر 3 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية