سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 158

سيرة النبي عليه 158 جلد 4 کوئی حس باقی ہے تو کل اس کے منہ سے ایسی بات ہرگز نہ نکلے گی۔وہ خوش ہوتے تھے کہ آج ہم نے محمد (ﷺ) کی زبان بند کر دی اور دوسری طرف جب خدا کا سورج چڑھتا تھا تو خدا کا یہ عاشق خدا کا پیغام مکہ والوں کو پہنچانے کے لئے نکل کھڑا ہوتا۔پھر تمام دن وہی گالیاں، وہی دھمکیاں اور وہی ڈراوے ہوتے تھے اور اسی میں شام ہو جاتی۔مگر جب رات کا پردہ حائل ہوتا تو وہ سمجھتے کہ شاید آج یہ خاموش ہو گیا ہوگا مگر وہ جس کے کانوں میں خدا کی آواز گونج رہی تھی وہ مکہ والوں سے کیسے خاموش ہو جاتا۔اگر تو اس کی رات سوتے گزرتی تو وہ بیشک اس پیغام کو بھول جاتا مگر جب اس کے سونے کی حالت جاگنے کی ہی ہوتی تو وہ کیسے بھول سکتا تھا۔وہ سبق جو دہرایا نہ جائے بیشک بھول سکتا ہے مگر جب آپ کی یہ حالت تھی کہ جو نہی سر ہانے پر سر رکھا وہی اقْرَأْ کی آواز آنی شروع ہو جاتی تو آپ کس طرح اس پیغام کو بھول جاتے“۔اس موقع پر بارش کے چھینٹے پڑنے شروع ہو گئے۔اور لوگوں میں کچھ حرکت پیدا ہوئی۔اس پر حضور نے فرمایا:۔صلى الله گھبراؤ نہیں یہ بارش تمہاری مہینوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب تازہ بارش ہوتی تو رسول کریم ﷺ باہر نکل کر منہ کھول دیتے اور جب چھینٹا منہ میں گرتا تو فرماتے کہ یہ میرے رب کا تازہ انعام ہے پس محمد مصطفی مے کو رمضان میں ہی یہ آواز آئی اور رمضان میں ہی آپ نے غار حرا سے باہر نکل کر لوگوں کو یہ تعلیم سنانی شروع کی۔“ (الفضل 20 دسمبر 1934 ء) 1 بخارى كتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحى إلى رسول الله ص حدیث نمبر 3 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية