سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 157
سيرة النبي عمال 157 جلد 4 وہ لوگ جو اپنی زندگی کا مقصد ہی عیش و طرب سمجھتے تھے، جن کے نزدیک د نیاطلبی ہی خدا طلبی کا نام تھا، جو ہر ایک عیش و آرام کو اپنا حق سمجھتے تھے ان کو جا کر یہ کہنا کہ اپنے اوقات نمازیں پڑھنے اور دعائیں کرنے میں صرف کرو۔اپنے اموال بجائے شراب میں اڑانے اور جوئے میں ہارنے کے خدا کے رستے میں اور غریبوں کی پرورش میں خرچ کرو بظاہر وہی بات تھی جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا۔کون امید کر سکتا تھا کہ اس آواز کے مقابلہ میں ان کے قلوب سے بھی ایک آواز اٹھے گی ، اس سریلی تان کے مقابلہ میں ان کے قلوب کوئی شعور محسوس کریں گے خود محمد رسول اللہ علیہ بھی حیران رہ گئے۔جب آپ کو یہ حکم دیا گیا تو آپ نے جبرائیل کو حیرت سے دیکھ کر کہا کہ ما انَا بِقَارِ 1 کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔یعنی اس قسم کا پیغام مجھے عجیب معلوم ہوتا ہے۔کیا یہ الفاظ میرے منہ سے مکہ والوں کے سامنے زیب دیں گے، کیا میری قوم ان کو قبول کرے گی اور سنے گی مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو متواتر حکم دیا گیا کہ جاؤ اور پڑھو، جاؤ اور پڑھو، جاؤ اور پڑھو۔تب آپ نے اس آواز پر اور اس ارشاد کی تعمیل میں تنہائی کو چھوڑا اور جلوت اختیار کی مگر وہ کیسی مجلس تھی ؟ وہ ایسی مجلس نہ تھی کہ جس میں ایک دوست بیٹھ کر دوسرے دوست کے سامنے اپنے شکوے بیان کرتا ہے۔وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں دوست اپنے دوست کے خوش کرنے والے حالات سنتا اور لطف اٹھاتا ہے۔وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں انسان اپنی ذہنی کوفت اور تکان کو دور کرتا ہے۔وہ قصوں کہانیوں والی مجلس نہ تھی ، شعر و شاعری کی مجلس نہ تھی ، وہ ایسی مجلس نہ تھی جس میں مباحثات اور مناظرات ہوتے ہیں بلکہ وہ مجلس ایسی تھی جس میں ایک طرف متواتر اور پیہم اخلاص کا اظہار ہوتا تھا تو دوسری طرف متواتر اور پیہم گالیاں، دشنام، ڈراوے اور دھمکیاں ہوتی تھیں۔وہ ایسی مجلس تھی جس میں ایک دفعہ جانے کے بعد دوسرے دن جانے کی خواہش باقی نہیں رہتی۔وہ ایسی گالیاں، ایسے ڈراوے اور ایسی دھمکیاں ہوتی تھیں کہ ایک طرف ان کے دینے والے سمجھتے تھے کہ اگر اس شخص میں