سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 156

سيرة النبي علي 156 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی عبادت کی برکات کی رسول حضرت مصلح موعود نے 14 دسمبر 1934 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا:۔ہم اس وقت رمضان کے مہینے میں داخل ہو رہے ہیں۔یہ پہلا جمعہ ہے جو اس مہینہ میں آیا ہے اور ان دنوں کی یاد دلاتا ہے، وہ مبارک دن ، وہ دنیا کی سعادت کی ابتدا کے دن ، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکت کے دروازے کھولنے والے دن جب دنیا کی گھناؤنی شکل اس کے بدصورت چہرے اور اس کے اذیت پہنچانے والے اعمال سے تنگ آکر محمد مصطفی علیہ غار حرا میں جا کر اور دنیا سے منہ موڑ کر اور اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر صرف اپنے خدا کی یاد میں مصروف رہا کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ دنیا سے اس طرح بھاگ کر وہ اپنے فرض کو ادا کریں گے جسے ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے۔انہی تنہائی کی گھڑیوں میں ، انہی جدائی کے اوقات میں اور انہی غور و فکر کی ساعات میں رمضان کا مہینہ آپ پر آ گیا۔اور جہاں تک معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے چوبیسویں رمضان کو وہ جو دنیا کو چھوڑ کر علیحدگی میں چلا گیا تھا اسے اس کے پیدا کرنے والے، اس کی تربیت کرنے والے، اس کو تعلیم دینے والے اور اس سے محبت کرنے والے خدا نے حکم دیا کہ جاؤ اور جا کر دنیا کو ہدایت کا رستہ دکھاؤ اور بتایا کہ تم مجھے تنہائی میں اور غار حرا میں ڈھونڈتے ہو مگر میں تمہیں مکہ والوں کی گالیوں اور ان کے شور وشغب میں ملوں گا۔جاؤ اور اپنی قوم کو پیغام پہنچا دو کہ میں نے تم کو ادنیٰ حالت میں پیدا کر کے اور پھر ترقی دے کر اس لئے دنیا میں نہیں بھیجا کہ تم کھاؤ پیو اور مر جاؤ اور کوئی سوال تم سے نہ کیا جائے۔