سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 147

سيرة النبي علي 147 جلد 4 رسول کریم ﷺ کے صحابہؓ کا مقام الله حضرت مصلح موعود 15 جون 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرماتے ہیں:۔’یا د رکھنا چاہئے انبیاء کی جماعتیں غیر معمولی نہیں ہوتیں۔رسول کریم ﷺ کے وقت میں جولوگ پیدا ہوئے اور آپ پر ایمان لائے قربانیاں انہوں نے بھی کیں اور بعد میں آنے والوں نے بھی کیں۔بنی نوع انسان کی خدمت انہوں نے بھی کی اور دوسروں نے بھی کی۔لیکن کیا وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں آپ پر ایمان لانے والا ادنیٰ سے ادنی آدمی بھی بعد میں آنے والوں پر ایک رنگ کی فضیلت رکھتا ہے؟ امت محمدیہ میں رسول کریم ﷺ کے بعد سینکڑوں اولیاء ایسے گزرے ہیں جو کئی صحابہ سے درجہ میں بلند تھے۔مگر باوجود اس کے جب ان کے سامنے کسی صحابی کا نام آتا تو ان کے دلوں پر غیر معمولی کیفیت طاری ہو جاتی، ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ، ان کے چہروں کی حالت بدل جاتی اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویاوہ کسی بڑے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہیں۔اس کی کیا وجہ تھی کہ سید عبدالقادر جیلانی ، شہاب الدین صاحب سہروردی اور معین الدین چشتی جیسے آدمی جنہوں نے دنیا کی ہدایت کے لئے بہت بڑے بڑے کام کئے ایک معمولی صحابی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو گرا دیتے اور اپنے درجہ کو متنزل کر دیتے۔اسی وجہ سے کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ غیر معمولی حالات میں پیدا ہوئے اور غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان (الفضل 21 جون 1934ء ) 66 لانے کی توفیق عطا فرمائی۔“