سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 148

سيرة النبي علي 148 جلد 4 خطرات کے موقع پر رسول کریم ﷺ کا طرز عمل حضرت مصلح موعود نے 12 اکتوبر 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔وہ امر جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ قادیان میں احراری فتنہ کی وجہ سے ہماری جماعت کے بعض لوگ مضطرب سے ہوئے جاتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں کچھ گھبراہٹ اور جلد بازی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔مومن کا فرض ہے کہ ہوشیار رہے۔اور اس میں رسول کریم ﷺ کی مثال ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ایک دفعہ مدینہ کے باہر شور ہوا تو آپ معاً رسے نکلے اور کسی صحابی کا گھوڑا لے کر جو ایسی جگہ بندھا تھا جہاں آپ بآسانی پہنچ سکتے تھے اکیلے ہی اس شور کی وجہ معلوم کرنے کے لئے چلے گئے۔اُن دنوں خبر مشہور تھی کہ وہ عیسائی قبائل جو قیصر کے ماتحت تھے مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ شور سن کر ا کٹھے ہوئے ، بعض مسجد نبوی میں جمع ہو گئے اور بعض نے ادھر ادھر باتیں کرنا شروع کر دیں اور سب اس انتظار میں تھے کہ رسول کریم ﷺ جس طرح ارشاد فرمائیں کیا جائے۔اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سوار باہر سے آ رہا ہے اور صلى الله پاس آنے پر معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ ہیں۔آپ نے فرمایا میں شور سن کر دیکھنے گیا تھا کہ کیا بات ہے مگر کوئی بات نہیں ہے 1۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ ہوشیاری اور احتیاط میں دوسروں سے کس قدر بڑھے ہوئے تھے حالانکہ آپ سے زیادہ بہادر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔جسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا سے اور کس کا خوف ہوسکتا ہے۔اس کے لئے تمام ڈرمٹ جاتے ہیں۔بیشک حذر اس کے اعلیٰ اخلاق میں سے ایک