سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 146
سيرة النبي علي 146 جلد 4 تھا کہ ہم اپنے گھوڑوں کو لوٹاتے مگر وہ پیچھے نہ لوٹتے۔ہم باگیں کھینچتے اور پورے زور سے کھینچتے یہاں تک کہ جانور کا سر ان کی دم سے جاملتا مگر باوجود اس کے جب لگام ذرا ڈھیلی ہوتی وہ آگے کو بھاگ پڑتے۔اس صحابی کا بیان ہے جب ہمیں یہ آواز سنائی دی کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم دنیا میں نہیں بلکہ مرچکے ہیں اور میدان حشر میں کھڑے ہیں اور صور اسرافیل پھونکا جارہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اے مُردو! ہمارے پاس آجاؤ۔یہ آواز سنتے ہی ہم میں ایک نیا جذ بہ اور نیا رنگ پیدا ہو گیا۔جو لوگ اپنے اونٹوں اور گھوڑں کو واپس لوٹا سکے انہوں نے واپس لوٹا کر اور جنہوں نے یہ دیکھا کہ ان کی سواریاں مڑنے کے لئے تیار نہیں تو سواریوں کی گردنیں اڑا کر لبیک کہتے ہوئے اس آواز پر جمع ہو گئے اور چند منٹ کے اندر اندر ہی میدان جنگ صحابہ سے بھر گیا 2۔“ ( الفضل 7 جون 1934 ء ) 1:بخارى كتاب الجهاد و السير باب من صف اصحابه عند الهزيمة صفحه 484 حدیث نمبر 2930 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية :2 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثاني صفحه 1240 مطبوعہ دمشق 2005 ء