سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 130
سيرة النبي علي 130 جلد 4 فرمایا:۔رسول کریم علیہ کے مخالفوں کی ناکامی حضرت مصلح موعود نے 8 اپریل 1934 ء کو فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے تیسری چیز عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَّبِّهِ 1 کے سلسلہ میں وہ معجزات اور پیشگوئیاں ہیں جو رسول کریم علیہ نے بیان کی ہیں۔آپ نہایت خطرناک دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے مگر آپ نے دعویٰ کیا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 2 مکہ والوں نے سارا زور لگایا کہ آپ کو قتل کریں، آخر کار تجویز کی کہ سب مل کر آپ کو ماریں مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپ کو قبل از وقت ان کے منصوبوں کا علم دے دیا اور آپ بچ گئے۔آپ جب غار ثور میں گئے تو دشمن بھی غار کے منہ تک پہنچ گئے ان کے ساتھ ایک بہت بڑا ماہر کھوجی تھا، ہمارے علاقہ کے لوگ تو کھوجیوں کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے البتہ اس علاقہ میں رواج ہے، اس کھوجی نے کہا کہ یا تو اس غار میں ہیں یا پھر آسمان پر چڑھ گئے ہیں اس سے آگے نہیں گئے 3۔لیکن ان لوگوں پر اس قدر تصرف الہی تھا کہ کسی نے جھک کر نیچے نہ دیکھا کہ شاید اس کے اندر ہی ہوں۔پھر ایک سردار نے اعلان کیا کہ جو آپ کو پکڑ کر لائے گا اسے سو اونٹ انعام دیا جائے گا4۔چنانچہ ایک شخص آپ کے تعاقب میں گیا اور بالکل قریب جا پہنچا مگر جب وہ حملہ کرنے لگتا تو گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر پڑتا۔تین دفعہ ایسا ہی ہوا آخر وہ سمجھ گیا اور اُسی وقت ایمان لے آیا 5۔تو رسول کریم ﷺ کی زندگی میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ایک عورت نے آپ کو کھانے میں زہر