سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 131
سيرة النبي عمال صلى الله 131 جلد 4 دینا چاہا ایک صحابی نے وہ کھانا کھا لیا اور وہ فوت ہو گئے لیکن آپ نے لقمہ اٹھایا اور پھر رکھ دیا 6۔اسی طرح آپ پر پیچھے سے پتھر گرا کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا۔۔آپ بالکل اکیلے باہر چلے جاتے تھے صحابہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رات کو مدینہ سے باہر کچھ شور ہوا وہ جب اٹھ کر دیکھنے کے لئے جا رہے تھے تو رسول کریم ﷺ گھوڑے پر واپس آتے ہوئے ان کو ملے اور فرمایا میں دیکھ آیا ہوں کوئی خطرہ کی بات نہیں 8۔تو آپ راتوں کو اکیلے پھرتے مگر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکا حالانکہ سب آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے ، ان کی سب تدابیر نا کام ہوئیں۔۔۔رسول کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کی تمام تدابیر ناکام ہوئیں اور دشمنوں کی شکست کی تمام پیشگوئیاں جو رسول کریم ﷺ نے کیں مثلاً فتح مکہ کی خبر ، فتح خیبر کی خبر اور ابو جہل کی موت کہ کہاں اور کس طرح واقع ہوگی وغیرہ وہ سب پوری ہوئیں۔اسی طرح کی مثالیں حضرت مرزا صاحب کی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کو سخت مخالف حالات میں جو کامیابی ہوئی دشمن بھی اس کے معترف ہیں۔ایک انگریز مصنف لکھتا ہے کہ اسلام پر جو چاہو اعتراض کرو لیکن ایک بات سخت حیران کن ہے اور وہ یہ کہ ایک کچا مکان جس پر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت پڑی ہے اور بارش میں پانی چھت سے ٹپک ٹپک کر فرش پر کیچڑ ہو جاتا ہے ، اس کے اندر چند لوگ بیٹھے ہیں ، جن میں سے اگر کسی کا تہبند ہے تو گرتا نہیں اور گرتا ہے تو پگڑی نہیں غرضیکہ کسی کے بدن پر بھی پورے کپڑے نہیں ہیں وہ نہایت سنجیدگی سے اس امر پر غور کر رہے ہیں کہ فلاں ملک کو کس طرح فتح کیا جائے اور فلاں کو کس طرح اور پھر وہ کر کے دکھا بھی دیتے ہیں۔وہ کہتا ہے تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو چاہو اعتراض کرو لیکن اس کا کیا جواب تحقیق حق کا صحیح طریق مطبوعہ 30 ستمبر 1934 ء) ہے اور یہ کیا راز تھا۔“ 1:هود: 18 2: المائدة : 68