سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 127
سيرة النبي علي 127 جلد 4 رسول کریم ع کی قوت قدسیہ حضرت مصلح موعود نے 18اپریل 1934 ء کو فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔" آپ نے بدی کو چھوڑنے کی طاقت لوگوں کے دلوں میں پیدا کی۔امریکہ نے شراب نوشی کی ممانعت کا قانون پاس کیا مگر وہ طاقت نہ پیدا کر سکا جو شراب ترک کرنے کے لئے ضروری تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف شراب سے نہ روکا بلکہ وہ طاقت پیدا کی جس سے اسے چھوڑا جا سکتا ہے اور یہی فرق ہے اسلام میں اور دنیوی طاقتوں و حکومتوں میں۔کسی چیز کو حرام قرار دینے اور لوگوں سے اسے چھڑانے کے لئے بھی ایک طاقت چاہئے کیونکہ یہ ایک قربانی ہے جو بغیر طاقت کے نہیں ہو سکتی اور یہ طاقت دنیوی نہیں بلکہ وہ طاقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور جسے قوتِ قدسیہ کہا جاتا ہے۔بوعلی سینا کے متعلق لکھا ہے کہ آپ ایک دفعہ کوئی مسئلہ بیان کر رہے تھے ان کی تقریر سن کر ایک شاگرد لٹو ہو گیا اور مستی میں آ کر کہنے لگا خدا کی قسم ! آپ تو محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔وہ ایک فلسفی اور نیک آدمی تھے اُس وقت تو خاموش رہے جب سردی کا موسم آیا، عراق میں سردی بہت پڑتی اور پانی جم جاتا ہے وہ ایک تالاب کے پاس بیٹھے تھے جو بالکل یخ بستہ تھا اسی شاگرد کو انہوں نے کہا کہ اس تالاب میں کود پڑو۔اس نے جواب دیا کہ آپ اتنے بڑے طبیب ہو کر ایسی جہالت کی بات کہتے صلى الله ہیں۔وہ کہنے لگے بے حیا! تجھے یاد نہیں تو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ علی