سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 128

سيرة النبي عمال 128 جلد 4۔سے بھی بڑھ کر ہو۔محمد رسول اللہ علیہ کے تو ایک اشارے پر ہزاروں لوگوں نے جانیں فدا کر دیں مگر تو میرے کہنے پر اس تالاب میں بھی نہیں کو دسکتا۔تو اصل چیز قوت قدسیہ ہے۔جب امریکہ نے شراب کی بندش کے احکام جاری کئے تو میں نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ اس میں دیکھنے والی بات یہی ہے کہ وہ اس پر عمل بھی کرا سکتا ہے یا نہیں اور وہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اسلام اور دنیوی حکومتوں کی طاقتیں کتنا بڑا فرق رکھتی ہیں۔اب امریکہ جہاں سے چلا تھا وہیں واپس آ گیا اور اس نے ممانعت شراب کے قانون کو منسوخ کر دیا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا عجیب واقعہ ہے۔آپ نے حکم دیا کہ شراب منع ہے اور سب جانتے ہیں کہ نشہ والے شخص کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔مجھے تو اس کا تجربہ نہیں باہر رہنے والوں کو تو ایسے لوگوں کو دیکھنے کے مواقع عام طور پر ملتے رہتے ہیں۔ہاں ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ میں گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔اسی کمپارٹمنٹ میں ایک ریاست کے وزیر صاحب بیٹھے تھے جنہیں میں نہیں پہچانتا تھا مگر وہ مجھے جانتے تھے۔کہنے لگے کیوں مرزا صاحب! آپ کی کیا خاطر کروں؟ اور اسی فقرہ کو بار بار دہرانا شروع کیا۔پھر ایک اور صاحب بیٹھے تھے انہیں کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی، جگہ کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔پھر ایک سکھ ای۔اے۔سی آگئے ان سے بھی یہی کہنا شروع کر دیا کہ آپ کی کیا خاطر کروں؟ میں نے سمجھا انہیں کوئی مرض ہے مگر کسی نے بتایا کہ نہیں ، نشہ کی حالت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرمایا کہ شراب منع ہے تو اُس وقت مدینہ میں ایک دعوت ہو رہی تھی ، شراب کے مٹکوں کے ملکے بھرے رکھے تھے اور لوگ پی پی کر مست ہو رہے تھے کہ گلی میں سے ایک شخص اعلان کرتا ہوا گز را کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب منع کر دی ہے۔ایک شخص اٹھا کہ باہر جا کر معلوم کروں کہنے والا کیا کہتا ہے مگر دوسرا اسی نشہ کی حالت میں اٹھا اور سونٹا مار کر مٹکوں کو توڑ دیا کہ پہلے شراب کو زمین پر بہا کر پھر دریافت کریں گے 1۔اس کے مقابل میں امریکہ کی حالت