سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 103
سيرة النبي عمال 103 جلد 4 سے چار آنے نقد اور چار آنے کی چیز لے لی اور پھر اس سے کہا کہ فلاں چیز تمہارے پاس ہے تو دکھاؤ۔یہ کوئی ایسی چیز تھی جو عام طور پر دکاندار اندر رکھتے ہیں وہ اندر سے لانے کے لئے گیا مگر اٹھنی صندوقچی کے اندر رکھنا بھول گیا اور میں نے اٹھا کر جیب میں ڈال لی۔تو بعض مسلمان اسے جائز سمجھتے ہیں مگر یہ اسلام کی تعلیم ہرگز نہیں۔اسلامی تعلیم تو یہی ہے کہ سب کے ساتھ عدل وانصاف کرو۔دنیوی معاملات میں یہ امتیاز نہ ہونا چاہئے۔امتیاز رنگ ونسل کی ممانعت اس کے علاوہ آپ نے نسلی امتیاز کو منایا۔عیسائیوں کے گرجوں میں امرا و غرباء کی کرسیاں علیحدہ علیحدہ ہوتی ہیں ، ہندوؤں میں کوئی اچھوت ہے اور کوئی برہمن، یہودیوں میں کوئی بنی ہارون اور کوئی بنولاوی مگر آپ نے فرمایا کہ نسلی امتیاز کوئی شے نہیں۔تم میں سے جو نیکی کرے وہ بڑا ہے 23 اور جو شریر ہو ، جھوٹ بولے اور برے اعمال کرے وہ خواہ کسی قسم سے ہو وہ برا ہے۔مضمون تو یہ سارے مذاہب کی جزئیات پر حاوی ہے مگر اس جگہ صرف اشارات ہی کئے جا سکتے ہیں کیونکہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے۔الہام الہی پھر رحمانیت آتی ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ جو چیز اس نے پیدا کی ہے اس کے استعمال کے سامان اور ذرائع بھی مہیا کر دیے۔اس کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ کیا غیر مستحق کے کام کو چلانے کے لئے بھی آپ نے کوئی سامان کیا ہے یا کام کرنے سے پہلے اس کے چلانے کے لئے آپ نے کوئی انتظام کیا ہے اس ضمن میں پہلی بات یہ یاد رکھنی چاہئے کہ کسب کے بغیر جو چیز ملتی ہے وہ الہام ہے۔آپ کے زمانہ میں الہام کا دروازہ بند تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ وحی کا دروازہ اب بند ہے اور الہام پہلوں پر ختم ہو چکا آئندہ نسلوں کے لئے اسے پانے کی کوئی امید نہ تھی۔آپ نے انسانوں کے احساسات کا خیال کیا اور بتایا کہ الہام کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔اگر کسی انسان کے اندر کسی چیز کے پانے کی اہلیت اور فطرت ہو مگر اسے خیال ہی نہ ہو کہ یہ چیز مجھے مل سکتی ہے تو وہ اس کے لئے کیا کوشش کرے گا۔کسی کے گھر میں