سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 102
سيرة النبي عمال 102 جلد 4 میں شامل ہونے کے لئے بلایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ سب نبی اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے مگر میں سب اقوام کی طرف بھیجا گیا ہوں 18۔یہ نہیں کہ اسلام کسی سے کہے کہ تم ہندو ہو تمہیں عرب کی تعلیم سے کیا واسطہ بلکہ آپ وہ نور لائے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ 19 جس کا مشرق و مغرب سے کوئی تعلق نہیں۔اس رنگ میں بھی آپ نے مظہرِ رَبُّ الْعَلَمِینَ ہونے کا ثبوت دیا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس ایک عورت آئی کہ مجھے اپنی تعلیم سکھائے مگر آپ کی تعلیم چونکہ محدود طبقہ کے لئے تھی اور وہ عورت اس حلقہ سے باہر تھی اس لئے آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اپنے موتی سؤروں کے آگے نہیں ڈال سکتا 20۔اور بچوں کی روٹی چھین کر کتوں کو نہیں دے سکتا 21 اور اس طرح اُسے بتا دیا کہ میری تعلیم محدود ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم کو سب مخلوقات کے لئے عام کر دیا اور اس طرح آپ رَبُّ الْعَلَمِینَ کے مظہر اتم ٹھہرے۔غرضیکہ جسمانی اور روحانی دونوں حالتوں میں بھی آپ " کی عام ربوبیت ربوبیت کو عام پاؤ گے۔یہودیوں میں سود منع ہے مگر تا ہم غیروں سے وہ لے لیتے ہیں 22۔آپ نے سود کو منع فرمایا مگر سب کے لئے۔آپ نے حکم دیا کہ اگر کسی مسکین کو حاجت ہے تو اسے سود پر روپیہ دینا ظلم ہے گویا جسمانی طریق پر بھی آپ نے امتیاز نہیں رکھا۔گو افسوس ہے کہ مسلمانوں میں بعض لوگ ایسے پیدا ہو گئے جو غیروں سے دھو کا جائز سمجھتے ہیں۔بعض مولویوں نے فتوی دے رکھا ہے کہ کافر سے سود لینا جائز ہے حالانکہ جب کوئی شخص رحم کا محتاج ہے تو خواہ وہ کسی قوم کا ہو اس پر رحم کرنا چاہئے اور دھوکا و فریب اگر برا ہے تو سب کے ساتھ۔یہ نہیں کہ غیروں کے ساتھ اسے جائز سمجھا جائے۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ میں نے ایک شخص کو اٹھنی دی کہ چار آنے کی فلاں چیز لے آؤ۔وہ تھوڑی دیر کے بعد چیز لے آیا اور اٹھنی بھی ساتھ ہی آپ کو واپس کر دی اور کہنے لگا آج کا فرکوخوب دھوکا دیا۔میں نے اس