سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 104

سيرة النبي م 104 جلد 4 خزانہ ہو مگر اسے کوئی علم تک نہ ہو تو اس سے اس کو کیا فائدہ ہوگا۔پس قو تیں تو سب میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہر دماغ میں الہام پانے کی قابلیت رکھی ہے مگر یہ ملتا امید اور توکل کے نتیجہ میں ہے اور آپ نے ساری دنیا کے اندر اس کی امید پیدا کی کہ اس کے لئے اب بھی الہام کا دروازہ کھلا ہے۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ الہام کے لئے امید اور تو کل ہی دروازہ ہے۔خدا تعالیٰ اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہی اس سے سلوک کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے اَنَا عِندَ ظَنِّ عَبْدِى بِبی 24 یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرتا ہے میں اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں۔اگر وہ کہتے ہیں کہ الہام کا دروازہ بند ہے تو میں بھی کہتا ہوں کہ اچھا بند ہی سہی۔اور اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا سے مل کر رہیں گے تو ہم بھی کہتے ہیں کہ اچھا آؤ مل لو۔آپ نے یہ روحانی امید دلائی اور توکل کا دروازہ کھول دیا۔غرباء کی امداد کا مکمل انتظام جسمانی طور پر بھی اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔سب مذاہب نے صدقہ و خیرات کا حکم دیا ہے مگر جب تک ایک نظام کے ماتحت یہ کام نہ ہو مکمل نہیں ہوسکتا۔ہر کوئی کہہ دے گا کہ اچھا دے دیں گے۔کب دیں گے ، کیا دیں گے اس کے متعلق کوئی علم نہیں۔مگر رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق ایسے قوانین دیئے ہیں کہ ہر وہ شخص جس میں طاقت اور استطاعت ہے مجبور ہے کہ ان محتاجوں کے لئے جن کے کام کرنے کے سامان نہیں ہر سال ایک مقررہ رقم ادا کرے جو ایک جگہ جمع ہو اور جو جملہ محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے۔اس طرح غرباء کو اوپر اٹھایا جائے اور یہ بھی رحمانیت کے ماتحت کام ہے۔وقت نہیں وگر نہ اگر اس کی تفصیلات بیان کی جائیں تو معلوم ہو کہ آپ نے اس سے کس طرح چوری، ڈاکہ اور فسادات وغیرہ کا دروازہ بند کر دیا۔صفت رحیمیت کا مظہر اتم تیسری صفت رحیمیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کام کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیا جائے۔اچھے لوگ