سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 79
سيرة النبي م 79 جلد 3 نے فرمایا یہ کہہ کر آئے ہو تو ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہو۔جب ان سے تم کہہ آئے ہو کہ ہم مسلمانوں کی مدد کو نہیں جا ر ہے تو اب ہمارے ساتھ ملنے سے وعدہ خلافی ہو جائے گی۔پس اس سے بچو۔یہ کیسا اعلیٰ سبق مساوات کا ہے۔ہر چہ برخود مپسندی بر دیگراں مپسند۔ایک خالی مقولہ ہے جس پر لوگ عمل نہیں کرتے ہاں زور بہت دیتے ہیں۔مگر رسول کریم ﷺ نے اس پر ایسے بے نظیر طور پر عمل کیا ہے کہ اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ذرا غور کرو ایک ہزار دشمن کے مقابلہ کے لئے آپ جا رہے ہیں اور صرف تین سو آدمی آپ کے ساتھ ہیں۔اُس وقت آپ کو دو آدمی ملتے ہیں جو تجربہ کا رسپاہی ہونے کی وجہ سے آپ کے لئے نہایت کارآمد ہیں مگر آپ انہیں جنگ میں شامل ہونے سے روک دیتے ہیں تا کہ ان کا عہد قائم رہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ عہد خواہ اپنے سے ہو یا غیر سے کس طرح آپ اس کی پابندی کراتے تھے۔حتی کہ جو دشمن جنگ کر رہا ہو اس کے عہد کو بھی پورا کراتے تھے۔تمدنی اور شرعی مساوات کے علاوہ آپ نے روحانی مساوات بھی قائم کی ہے چنانچہ آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہراک قوم کے لئے روحانی بادشاہت پانے کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سب دنیا کے لئے بھیجا ہے۔کوئی ادنیٰ ہو یا اعلیٰ خدا تعالیٰ کے لئے سب برابر ہیں۔پس وہ اس کے دین میں داخل ہو سکتے ہیں اور اعلیٰ روحانی انعامات پاسکتے ہیں۔قیام امن کے سامان ساتواں احسان آپ کا یہ ہے کہ آپ نے دنیا میں امن قائم کرنے کے سامان پیدا کئے ہیں جس کے ثبوت میں مندرجہ ذیل چند امور پیش کئے جاتے ہیں۔ہر قوم کے بزرگوں کا ادب (الف) بہت سی لڑائیاں اس سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کے مذہب کو جھوٹا