سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 80

سيرة النبي عمال 80 جلد 3 سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سوائے ہمارے خدا تعالیٰ کو اور کوئی عزیز نہیں ہوا۔باقی لوگ ازل سے خدا کے دروازہ سے دھتکارے ہوئے ہیں۔اب یہ خیال فطرت کے بالکل مخالف ہے۔خواہ کوئی کسی قوم کا ہو اور کسی ملک کا ہو وہ خدا تعالیٰ پر اپنا ایسا ہی حق سمجھتا ہے جیسا کہ دوسرا۔پس اس قسم کے خیال سن کر جذ بہ حقارت بھڑک اٹھتا ہے اور جھگڑا اور فساد پیدا ہو جاتا ہے۔آپ نے اس جھگڑے کا یہ اعلان کر کے کہ اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ 45 بالکل بند کر دیا۔یعنی کوئی قوم بھی ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کے نبی نہ گزرے ہوں۔اس اعلان کے ذریعہ سے سب اقوام کے نبیوں کے تقدس کو قبول کر لیا گیا ہے اور وہ منافرت جو دائرہ ہدایت کے محدود کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اس اعلان کو مدنظر رکھنے والے کے دل سے دور ہو جاتی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سب مذاہب کی اصل سچائی ہے۔پس با وجود اختلاف کے مجھے ان سے اتحاد ہے۔سب مذاہب خدا کے قائم کئے ہوئے اور اسی کے جاری کئے ہوئے ہیں۔پس ان سے بغض اور ان کا قطعی انکار خود خدا کے فضل کا انکار ہے۔اب غور کرو آپ نے یہ کیسا امن قائم کرنے کا طریق بتایا ہے۔ایک ہندو جب ہم سے پوچھتا ہے تم رامچندرجی کو کیسا سمجھتے ہو؟ تو ہم کہتے ہیں ہم انہیں خدا تعالیٰ کا بزرگ سمجھتے ہیں۔یہ بات سن کر ایک ہندو ہم سے کس طرح ناراض ہوسکتا ہے۔اسی طرح ہم جہاں جائیں ہمیں اس بات کی فکر نہ ہوگی کہ دوسروں کے بزرگوں میں کیڑے نکالیں۔اگر کوئی بتائے کہ امریکہ یا افریقہ کے فلاں علاقہ میں خدا کا کوئی برگزیدہ گزرا ہے تو ہم کہیں گے ٹھیک ہے۔قرآن نے اس کا علم پہلے ہی دے دیا تھا کہ ہر قوم میں ہادی گزرے ہیں۔پس رسول کریم ﷺ نے اس تعلیم کے ذریعہ سے قیام امن کا ایک دروازہ کھول دیا ہے۔کسی کی قابل عزت چیز کو برا نہ کہو (ب) دوسری وہ لڑائی جھگڑوں کی یہ ہوتی ہے کہ انسان کسی قوم کے بزرگوں