سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 78

سيرة النبی عمل 78 جلد 3 آ گیا مگر ظالم کی کس طرح مدد کی جائے۔آپ نے فرمایا ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسے ظلم سے روک دو۔یہ واقعہ نہ صرف اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ نے انصاف اور مساوات کو قائم کیا ہے اور معاملات میں سب انسانوں کو برابر کیا ہے، یہ تعلیم نہیں دی کہ ہر حالت میں اپنے بھائی کا ساتھ دو بلکہ یہ تعلیم دی ہے کہ اگر بھائی ظلم کرے تو یہ خیال کر کے کہ اس کا مقابل غیر ہے بھائی کی مدد نہ کرو بلکہ ایسے وقت میں بھائی کی مدد یہی ہے کہ اس کا ہاتھ ظلم سے روکو کہ خدا کی نظر میں سب برابر ہیں۔بلکہ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی نہایت مقدس اور پاک تھی۔اگر نَعُوذُ بِالله رسول کریم ﷺ ظالم ہوتے اور دوسروں کو نقصان پہنچانا جائز سمجھتے تو جب آپ نے یہ فرمایا تھا اُنصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم تو اُس وقت مسلمان حیران کیوں رہ جاتے۔اگر انہیں ظلم کی تعلیم دی جاتی تھی تو ان کے حیران رہ جانے کا کوئی موقع نہ تھا۔وہ تو ایسی تعلیم کے سننے کے عادی تھے۔لیکن وہ حیران ہوئے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ انہیں روزانہ یہی تعلیم ملتی تھی کہ ظلم نہیں کرنا چاہئے۔اور یہی وجہ تھی کہ جب انہیں یہ کہا گیا کہ اپنے ظالم بھائی کی مدد کر تو اس تعلیم کو عام تعلیم کے خلاف پا کر وہ گھبرا گئے اور اس کی تشریح طلب کی جو ایسی بے نظیر تھی کہ اس نے اخلاق فاضلہ کے لئے نئے دروازے کھول دیئے۔عہد کا احترام اسی مساوات کی مثال کے طور پر آپ کا وہ طریق عمل پیش کیا جا سکتا ہے جو آپ معاہدات کی پابندی میں کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ لڑائی کے لئے جا رہے تھے۔لڑائی کے وقت سب جانتے ہیں کہ ایک ایک آدمی کس قدر قیمتی ہوتا ہے۔اُس وقت رستہ میں دو آدمی آپ کو ملے۔آپ نے دریافت فرمایا کس طرح آئے ہو؟ انہوں نے کہا اسلام لانے کے لئے آئے ہیں۔ہم مکہ سے آئے ہیں مگر وہاں کہہ آئے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کے لئے نہیں جا رہے۔آپ