سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 67

سيرة النبي علي 67 جلد 3 لائے۔یا اگر اس کی جرات نہ کر سکے تو آپ کی مدد کرتے رہے اور آپ سے اظہار ہمدردی کرتے رہے۔اور کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جن لوگوں کا معاملہ ہے وہ تو رسول کریم علی کو غلاموں کا آزاد کرانے والا قرار دیتے ہیں اور جو لوگ نہ اُس وقت تھے اور نہ ان کو غلامی سے کچھ تعلق ہے اور نہ انہوں نے غلاموں کے آزاد کرانے میں کبھی بھی کوئی حصہ لیا ہے وہ غلامی کے متعلق آپ پر اعتراض کرتے ہیں۔اس عملی کام کے علاوہ اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے کہ رسول کریم ہے کے زمانہ سے پہلے غلامی کا رواج تھا اور کوئی ملک غلامی سے پاک نہ تھا۔ہندوستان میں مجھے نہیں معلوم دوسری قسم کی غلامی تھی یا نہ تھی مگر اچھوت اقوام سب کی سب غلام ہی ہیں۔وہ اعلیٰ پیشوں سے محروم ہیں اور ان کا فرض ہی برہمنوں کی خدمت مقرر کیا گیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے لوگوں میں غلاموں کو کھانا ، کپڑا دینے کا رواج تھا یہاں جن لوگوں نے غلامی کا رواج دیا تھا انہوں نے کھانے، کپڑے سے بھی دست برداری دے دی تھی اور غلام کا فرض مقرر کیا تھا کہ وہ اپنے لئے بھی کمائے اور برہمنوں کی بھی خدمت کرے۔ایران اور روم بھی غلامی میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوئے تھے۔ان ممالک کے لوگوں نے غلامی کے دور کرنے کا کیا علاج مقرر کیا تھا؟ صلى الله کچھ بھی نہیں۔یہ صرف محمد رسول اللہ علے کا لایا ہوا دین تھا جس نے یہ قانون بنایا کہ ہر آزاد کو قید کرنے والا قتل کا مجرم سمجھا جائے گا۔پھر یہ شرط لگائی کہ غلام بنا نا صرف اس جنگ میں جائز ہے جو جنگ کہ دشمن اسلام صرف اس لئے کریں کہ مسلمانوں سے تلوار کے زور سے اسلام چھڑوائیں۔حالانکہ اس تعلیم سے پہلے تمام ممالک میں سیاسی جنگوں کے قیدیوں کو بھی غلام بنایا جاتا تھا۔پھر یہ شرط لگا دی کہ ایسی مذہبی جنگ میں بھی جو قید ہو اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اپنے گھر کے لوگوں سے کرتے ہو۔جو کھاتے ہو وہ کھلاؤ، جو پیتے ہو وہ پلاؤ، جو پہنتے ہو وہ پہناؤ۔پھر یہ شرط کی کہ باوجود اس خاطر کے ہر اک غلام کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ جب وہ چاہے آزاد ہو جائے۔ہاں