سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 63
سيرة النبي عمل غلامی کا حامی تھا۔63 63 بلال نے ایک اور غلام تھے جن کا نام بلال تھا اور جو رسول کریم ﷺ کے جانی دشمن امیہ بن خلف کے غلام تھے۔وہ ابتدائی ایام میں ہی رسول کریم ﷺ پر ایمان الله لے آئے۔امیہ انہیں جلتی ریت پر لٹا دیتا تھا اور تو بہ کے لئے کہتا تھا مگر وہ ایمان سے صلى الله باز نہ آتے تھے۔اب خدارا کوئی غور کرے کہ اگر رسول کریم ﷺ غلاموں پر ظلم کرنے والے ہوتے تو بلال، امیہ جیسے دشمنِ رسول کے گھر میں رہ کر آپ کے خلاف کیا کیا شوخیاں نہ کرتے۔وہ ایسے دشمن کے گھر میں ہو کر اور ہر قسم کی مخالف باتیں سن کر بھی آپ پر ایمان لاتے ہیں اور بڑی بڑی تکالیف اٹھاتے ہیں۔ان کا آقا اسی وجہ سے انہیں گرم ریت پر لٹا دیا کرتا اور وہ چونکہ عربی زبان زیادہ نہ جانتے تھے اس لئے وہ زیادہ تو کچھ نہ کہہ سکتے مگر احد احد کہتے رہتے تھے۔یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے 28۔اس پر ناراض ہو کر ان کا آقا انہیں اور تکالیف دیتا اور رسی ان کے پاؤں سے باندھ کر لڑکوں کے سپرد کر دیتا تھا۔وہ انہیں گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے حتی کہ بلال کی پیٹھ کا چمڑا اتر جاتا تھا۔مگر رسول کریم ﷺ کی محبت کا نشہ پھر بھی نہ اترتا تھا اور جس ایمان کی حالت میں ان پر مار پڑنی شروع ہوتی تھی اس سے بھی زیادہ ایمان پر اس مار کا خاتمہ ہوا کرتا تھا۔اب غور کرو یہ محبت اس کے دل میں کس طرح پڑ سکتی تھی۔اگر وہ محمد مانے کو غلاموں کا حامی اور آزاد کرانے والا نہ سمجھتا۔اس کے سوا وہ کونسی چیز تھی جو اسے آپ کے دشمن کے گھر میں رہ کر بھی آپ کی طرف مائل کر رہی تھی۔سمیہ چوتھا شخص ایک عورت لونڈی تھی جن کا نام سمیہ تھا۔ابوجہل ان کو سخت دکھ دیا کرتا تھا تا کہ وہ ایمان چھوڑ دیں لیکن جب ان کے پائے ثبات کو لغزش نہ ہوئی تو ایک دن ناراض ہو کر اس نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر ان کو مار دیا 29۔انہوں نے جان دے دی مگر محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان کو نہ چھوڑا۔اب سوچو کہ مرد تو مرد الله جلد 3