سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 43

سيرة النبي عمال 43 جلد 3 یہ دوست کی شہادت ہے کہ وہ کوئی دلیل، کوئی ثبوت ، کوئی معجزہ طلب نہیں کرتا۔صرف اتنا کہتا ہے کہ یہ بتا دیجئے کیا آپ نے دعویٰ کیا ہے؟ اور جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ دعویٰ کیا ہے تو ایمان لے آتا ہے۔الله ایک اور دوست آپ کا حکیم ابن حزام تھا۔وہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے قریب جا کر ایمان لایا۔21 سال کے قریب وہ آپ کا مخالف رہا۔مگر باوجود اس کے کہ اس نے آپ کے دعوی کو نہ مانا، تا ہم اتنا اخلاص رکھتا تھا کہ ایک بادشاہ کا مال جب مکہ میں آ کر نیلام ہوا تو ایک کوٹ جو کئی سو کی قیمت کا تھا اور لوگوں کو بہت پسند آیا تھا اسے جب اس نے دیکھا تو کہنے لگا محمد (ﷺ) سے زیادہ یہ کسی کو نہ بجے گا۔اس الله نے وہ کوٹ خرید لیا اور ہدیہ کے طور پر آپ کے لئے مدینہ میں لے کر آیا 9۔اس اخلاص سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ آپ کو غلطی لگ گئی ہے۔مگر یہ نہ سمجھتا تھا کہ آپ فریب دے رہے ہیں۔تبھی تو با وجود ایمان نہ لانے کے وہ آپ کے لئے ایک قیمتی تحفہ خرید کر مکہ سے مدینہ تین سومیل کی مسافت طے کر کے لے گیا۔ایک غیر جانبدار کی شہادت لیکن بعض دفعہ دوست کی شہادت کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ دوست جو ہوا اس کی شہادت دوست کے حق میں ہی ہوگی اس لئے میں ایک غیر جانبدار کی شہادت پیش کرتا ہوں۔وہ آپ کے بچپن کے متعلق ہے اور یہ ایک لونڈی کی شہادت ہے۔ابو طالب کی لونڈی کہتی ہے جب بچپن میں آپ اپنے چا ابو طالب کے گھر آئے تو سارے بچے آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے مگر آپ نے کبھی ایسی باتوں میں حصہ نہ لیا۔کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ کر سارے بچے لپک پڑتے مگر آپ کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے۔جو کچھ دے دیا جاتا کھا لیتے ، خود کچھ نہ مانگتے 10۔یہ آپ کے وقار، عزت نفس اور سیر چشمی کے متعلق شہادت ہے۔