سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 42
سيرة النبي عمال 42 جلد 3 دوستوں کی شہادت یہ تو آپ کے تقدس کے متعلق آپ کی بیوی کی شہادت ہے۔مگر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بیویوں سے تو اچھا سلوک کرتے ہیں مگر اپنے ملنے جلنے والوں سے ان کا سلوک اچھا نہیں ہوتا۔اس لئے کوئی کہہ سکتا ہے مان لیا بانی اسلام کی زندگی بیوی کے متعلق پاکیزہ تھی لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اپنے دوستوں کے متعلق بھی اچھی تھی اس لئے میں آپ کے دوستوں کی شہادت پیش کرتا ہوں۔ان دوستوں میں سے ایک تو ایسے دوست کی شہادت پیش کرتا ہوں جو آپ پر ایمان لایا۔اور ایک ایسے کی جو ایمان نہ لایا۔جو دوست ایمان لایا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ان کی گواہی یہ ہے جب رسول کریم ﷺ نے دعویٰ کیا تو لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں یا آپ جھوٹ بولتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اُس وقت مکہ سے باہر تھے۔واپسی پر کسی دوست کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس شخص کی لونڈی نے آ کر کہا آپ نے سنا کیسا اندھیر ہو گیا ہے کہ خدیجہ کے خاوند محمد (ع) نے دعوی کیا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوتا ہے اور میں نبی ہوں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر صلى الله صلى الله چپ چاپ اٹھے اور رسول کریم ہے کے پاس آئے۔آکر دروازہ پر دستک دی۔صلى الله رسول کریم ﷺ باہر نکل کر آئے اور چاہا کہ آپ کو اپنے دعویٰ سے خبر دار کریں کہ صلى الله انہوں نے کہا مجھے ایک بات پوچھ لینے دیں۔آپ نے رسالت کا دعویٰ کیا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں۔انہوں نے کہا بس، میں اور کچھ نہیں معلوم کرنا چاہتا۔میں جانتا ہوں کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔رسول کریم علیہ فرماتے ہیں میں نے جسے بھی اسلام کی دعوت دی اس میں کچھ کبھی پائی لیکن ابوبکر نے فوراً ہی میری بات کو قبول کر لیا 8۔(اس سے مراد خاندان کے باہر کے لوگ ہیں ورنہ حضرت خدیجہ ، حضرت علی اور زید بن حارثہؓ جو بیٹوں کی طرح آپ کے گھر میں پلے تھے اس میں شامل نہیں۔یہ لوگ فوراً ایمان لے آئے تھے۔)