سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 40
سيرة النبي علي 40 40 جلد 3 کیونکہ ایسے موقع پر منہ سے نکلی ہے جب کہ کسی بناوٹ کا شبہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔آپ فرماتے ہیں کیا یہ بھی ممکن ہے کہ میرے جیسے خیر خواہ اور ہمدرد کو نکال دیں۔وہ لوگ مجھ سے محبت اور پیار کرتے ہیں، مجھے صدوق اور امین قرار دیتے ہیں، میری خیر خواہی کے قائل ہیں۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ نکال دیں۔میں نے تو کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، کسی سے کبھی فریب نہیں کیا، کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔یہ بھی اس بات کی ایک شہادت ہے کہ آپ کی زندگی مقدس تھی کیونکہ آپ یہ خیال ہی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی یا یہ کہ قوم کے پاس آپ کو نکالنے کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے۔بیوی کی شہادت چونکہ خاوند کی سب سے زیادہ راز دان بیوی ہوتی ہے اس لئے میں آپ کی پاکیزہ زندگی سے متعلق آپ کی بیوی کی بھی ایک شہادت پیش کرتا ہوں۔یہ شہادت لوگوں کے سامنے نہیں دی گئی کہ اس میں بناوٹ کا شبہ ہو بلکہ علیحدہ گھر میں دی گئی ہے۔الله رسول کریم ﷺ نے 25 سال کی عمر میں ایک چالیس سالہ عمر کی عورت سے شادی کی۔25 سال کی عمر میں مرد پورا جوان ہوتا ہے اور چالیس سالہ عورت بڑھاپے کی طرف جا رہی ہوتی ہے۔اس عمر کا نوجوان اول تو پہلے ہی ایسے رشتہ کو نا پسند کرتا ہے اور اگر رشتہ ہو جائے تو نا گوار حالات رونما ہو جاتے ہیں۔وجہ یہ کہ ایسی عمر میں مرد کی خواہشات اور ہوتی ہیں اور عورت کی اور۔لیکن رسول کریم ﷺ نے اس نکاح کے 15 سال بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔اُس وقت حضرت خدیجہ کی عمر 55 سال کی تھی اور آپ کی عمر چالیس سال کی۔اس پندرہ سال کے عرصہ میں حضرت خدیجہ نے جو نتیجہ نکالا وہ یہ تھا کہ جب آپ کو الہام ہوا اور آپ اس بات سے گھبرا گئے کہ میں کہاں اور یہ درجہ کہاں اور آپ نے حضرت خدیجہ سے ذکر کیا تو انہوں نے آپ سے کہا گلا وَاللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ