سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 39

سيرة النبي علي 39 جلد 3 کر کے فرماتا ہے ہمیں معلوم ہے کہ لوگ تجھے جھوٹا اور فریبی کہتے ہیں، مکار اور ٹھگ قرار دیتے ہیں ، طالب حکومت اور شوکت بتاتے ہیں۔اور یہ باتیں تجھے بری لگتی ہیں مگر اس لئے نہیں کہ یہ تجھے برا کہتے ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ لوگ ہماری باتوں کا انکار کرتے ہیں۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی کے مذہب کو اگر کوئی برا بھلا کہے تو اسے اتنا جوش نہیں آتا جتنا اُس وقت آتا ہے جب کوئی اسے گالی دے۔مگر یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نفس کی یہ حالت ہے کہ انہیں جو چاہیں کہہ لیں مگر خدا تعالیٰ کی باتوں کا انکار نہ کریں اور اس کی شان کے خلاف باتیں نہ کریں۔گویا آپ کا غم و خون محض اللہ کے لئے تھا اپنی ذات کے لئے نہ تھا۔اپنے متعلق اپنی شہادت اب ایک اور شہادت آپ کے تقدس کی پیش کرتا ہوں جو آپ کی اپنی شہادت ہے۔عموماً اپنے متعلق اپنی شہادت کو وقعت نہیں دی جاتی لیکن یہ ایسی بے ساختہ شہادت ہے کہ جس کے درست تسلیم کرنے سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔جب آپ کو پہلے پہل الہام ہوا تو آپ ورقہ بن نوفل کے پاس گئے جو عیسائی تھے۔ย عیسائیوں میں چونکہ الہامی کتاب تھی اور عربوں میں نہ تھی اس وجہ سے حضرت خدیجہ آپ کی بیوی ان کے پاس آپ کو لے گئیں تا ان سے اس کے متعلق مشورہ کریں۔آپ نے ان سے ذکر کیا کہ مجھے اس اس طرح الہام ہوا ہے۔ورقہ نے کہا تمہاری قوم تمہیں تمہارے وطن سے نکال دے گی۔کاش! میں اُس وقت جوان ہوتا تو تمہاری مدد کرتا۔یہ سن کر آپ کے منہ سے بے اختیار نکل گیا اَوَ مُخْرِجيَّ هُمُ میں ہمیشہ لوگوں کا خیر خواہ رہا ہوں اور ان کی بھلائی کی کوشش کرتا رہا ہوں پھر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ مجھے نکال دیں گے۔یہ شہادت گو آپ کی اپنی شہادت ہے مگر ہر عقلمند کو ماننا پڑے گا کہ سچی ہے۔