سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 470
سيرة النبي عمال 470 جلد 3 که بر میشور کسی کا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا۔وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ کی سزا دیتا ہے پر اور انسان کو مختلف جونوں میں جانا پڑتا ہے۔اور سارے گناہوں کی سزا جونوں میں پڑ کر بھگت لینے کے بعد بھی پر میشور ایک نہ ایک گناہ رکھ لیتا ہے اور پھر اس کی پاداش میں نجات سے محروم کر دیتا ہے۔اس وجہ سے ہند و اپنے مذہب کے ذریعہ تسلی نہ پاسکتے تھے۔زرتشتی اور مسیح ابدی دوزخ کے قائل تھے۔اس عقیدہ کے ماتحت جس انسان سے ایک دفعہ بھی کوئی گناہ ہو جائے وہ یہی سمجھتا تھا کہ ابدی دوزخ میں جانا پڑے گا اور اس وجہ سے وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا تھا۔یہود بھی کسی کو تسلی نہ دیتے تھے۔وہ کہتے تھے نجات صرف یہود کیلئے ہے باقی سب کیلئے ہلاکت ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی امید کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔کوئی مذہب ابتدا میں ہی ناامیدی کے گڑھے میں گرا دیتا، کوئی درمیان میں لاکر منجدھار میں چھوڑ دیتا، کوئی آخر میں ابدی دوزخ میں جھونک دیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر سب کو تسلی دلائی۔(1) جو گناہ کی معافی کے قائل نہ تھے انہیں بتایا کہ تناسخ کے چکر کی ضرورت نہیں خدا تعالی بڑا رحیم وکریم ہے وہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيمُ 68 یعنی اے رسول ! تو سب بندوں کو کہہ دے کہ مجھے خدا نے تسلی دینے والا بنایا ہے۔اس لئے وہ لوگ جنہوں نے کوئی گناہ کیا ہے انہیں خبر دے دے کہ اللہ کی رحمت سے ناامیدمت ہو۔تو بہ کرو تو وہ گناہ بخش دے گا کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے۔b (2) پھر اس نے ان قوموں کی طرف منہ کیا جو کہتی ہیں کہ جو گنہگار مر گئے ان کیلئے ہمیشہ کا جہنم ہے۔اور سنایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔چنانچہ سورۃ اعراف آیت 157 میں آتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ۔پھر فرما یا فَأَمَّهُ هَاوِيَةٌ 89 ، یعنی جہنم ماں کی طرح ہے۔ماں کے پیٹ میں بچہ ہمیشہ نہیں