سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 471
سيرة النبي علي 471 جلد 3۔رہتا۔جب تک ناقص ہوتا ہے پیٹ میں رہتا ہے اور جب کامل ہو جاتا ہے پیٹ سے نکال دیا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے جہنم ماں کی طرح ہے۔جب ان لوگوں کے گند دور ہو جائیں گے جن کو اس میں ڈالا جائے گا اور ان کی صفائی ہو جائے گی تو ہم ان کو جنت میں بلا لیں گے۔پس دوزخ صرف ایک تکمیل اور علاج کا مقام ہے۔آخر سب خدا تعالیٰ کی بخشش کے نیچے آجائیں گے۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قوموں کو بھی تسلی دی جو یہ سمجھتی تھیں کہ گناہ گار ہونے کی حالت میں مرنے پر ہمیشہ کیلئے جہنم میں رہنا پڑے گا۔(3) پھر وہ تو میں جو یہ کہتی تھیں کہ سوائے ہمارے اور کسی کے لئے نجات نہیں ان کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو فرمایا کہ لوگوں کو تسلی دے دے کہ یہ غلط خیالات ہیں۔جیسے یہود نے نادانی سے کہہ دیا کہ ہمارے سوا کوئی نجات نہیں پاسکتا اور نسلاً یہ نجات ہمارے حصہ میں ہی آئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہدایت کسی ایک قوم سے مخصوص ہے۔نجات ہم نے دینی ہے اور ہما را دروازہ سب کے لئے کھلا ہے۔چنانچہ فرما یا قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعَا 20 یعنی تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔پس ہدایت کسی ایک قوم سے مخصوص نہیں بلکہ ہر قوم اس میں برابر کی حقدار ہے۔اب انسان کے دل میں ایک اور خوف پیدا ہوتا ہے کہ اچھا آپ آگئے اور آپ کے ذریعہ سب کے لئے نجات کا دروازہ بھی کھل گیا جس کے لئے ہم بڑے ممنون ہیں مگر ہمیں اپنے باپ دادا سے محبت ہے ان کی کیا حالت ہو گی ؟ مسیحیت کہتی ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے کیونکہ وہ کفارہ پر ایمان نہیں لائے۔یہودی کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے کیونکہ سوائے یہود کے اور کسی کے لئے نجات نہیں۔زرتشتی کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے۔ہندو بھی یہی کہتے ہیں مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہہ دو وَ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ تم اپنے باپ دادوں کے