سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 469

سيرة النبي علي 469 جلد 3 نبی آئے تو ہمیں کیا علم تھا کہ کرشن جی بھی خدا کی طرف سے تھے۔پھر دیکھو یہود کو زرتشی قوم سے کوئی تعلق نہیں۔وہ ایک علیحدہ دیوار کھڑی ہے مگر رسول کریم ﷺ نے اس قسم کی ہر دیوار کو ملا دیا۔زرتشت کی ساختہ دیوار سے اسلامی دیوار وابستہ ہے اور دوسرے انبیاء کی دیواروں سے بھی اسلامی دیوار وابستہ ہے۔پس کونے کے پتھر کے معنی یہ ہیں کہ آپ آئندہ آنے والے لوگوں اور پچھلی قوموں میں واسطہ پیدا کر دیں گے۔پہلی دیوار میں الگ الگ کھڑی تھیں۔حضرت موسی کی دیوار علیحدہ تھی ، حضرت عیسی کی علیحدہ ، حضرت کرشن کی علیحدہ۔مگر محمد رسول اللہ نے ہر دیوار میں کونے کا پتھر بن گئے اور آپ نے سب کو یہ کہہ کر ملا دیا کہ سب نبی خدا کی طرف سے ہیں اور سب کا ایک ہی سلسلہ ہے۔پانچویں بات یہ بتائی گئی تھی کہ آپ کا مقابلہ سب دنیا سے ہو گا۔آپ پر حملے کئے جائیں گے اور آپ سبھی حملے کریں گے مگر دونوں صورتوں میں وہ نبی ہی جیتے گا۔اس میں یہ نہیں کہا کہ وہ جیتے گا بلکہ یہ کہا اگر یہ حملہ کرے گا تو بھی جیتے گا اور اگر دشمن تیار ہو کر حملہ کریں گے تو بھی یہی جیتے گا۔چنانچہ جنگ احزاب، اُحد اور بدر میں دشمن چڑھ کر آ گیا مگر ان میں بھی دشمن ہی کچلا گیا۔اور فتح مکہ، خیبر اور تبوک کی جنگ میں آپ گئے اور ان میں بھی دشمن کچلا گیا۔چھٹی بات یہ بتائی گئی تھی کہ آپ تسلی دینے والے ہوں گے۔اس کے متعلق یہ دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا کو تسلی کی ضرورت تھی یا نہیں؟ اگر ضرورت تھی تو کیا ان اقوام کو ان کے مذاہب تسلی دے سکتے تھے؟ سواس بارے میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذاہب اپنے ماننے والوں کے لئے تسلی کا باعث نہ رہے تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو سب مذا ہب اس سے خالی تھے اور قلبی اطمینان ان میں سے کسی کو حاصل نہ ہو سکتا تھا۔چنا نچہ کوئی قوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل گناہ کی معافی کی قائل نہ تھی۔ہندو کہتے