سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 467
سيرة النبي عمال 467 جلد 3 اور دیگر اقوام شیطانی تعلقات کی وجہ سے مجرم قرار دی جائیں گی۔اور سب ہی دنیا اس کے آنے پر مجرم قرار پائے گی۔(8) یہ کہ وہ ایسی باتیں کہے گا جو اس سے پہلے نہ کہی گئی ہوں گی۔(9) یہ کہ وہ سب سچائیاں بتائے گا جن کے بعد کسی اور سچائی کی ضرورت نہ رہے گی۔(10) یہ کہ اس کی کتاب میں صرف خدا کا کلام ہو گا اور وہ آئندہ کے لئے بھی روحانی ترقی کا رستہ کھلا رکھے گی۔(11) یہ کہ وہ کتاب مسیح کو عیب سے مبرا کرے گی۔(12) یہ کہ مسیح کے راستباز ہونے کا عملی ثبوت دے گی یعنی اس کے کلام کو پورا کر کے اس کے باخدا ہونے کا ثبوت پیش کرے گی۔یہ ساری کی ساری باتیں رسول کریم ﷺ میں نہایت شان سے پوری ہوئیں۔اول آپ مثیل موسی تھے اور آپ نے دعویٰ کیا کہ آپ میں خدا ظاہر ہوا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ 64 یعنی وہ لوگ جو صلى الله b تیری بیعت کرتے ہیں وہ تیری نہیں بلکہ خدا کی بیعت کرتے ہیں۔دوسری بات یہ بتائی گئی تھی کہ وہ موعود بنی اسرائیل میں سے نہ ہو گا۔رسول کریم بنی اسرائیل میں سے نہ تھے بلکہ بنی اسمعیل میں سے تھے۔تیسری بات یہ بتائی گئی تھی کہ آپ کی قوم کی ہدایت کے سامان ہمیشہ ہو تے رہیں گے چنانچہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یعنی اللہ تعالیٰ رسول کو ایک دوسری قوم میں بھی بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔پھر حدیثوں میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِاةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا 65 یعنی اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت میں تجدید دین کے لئے اپنے پاک بندوں کو کھڑا کرتا رہے گا۔چوتھی بات یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ موعود کونے کا پتھر ہو گا جسے سب معماروں